دورۂ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ ؛ بابر اعظم دوبارہ پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مقرر، 16 رکنی اسکواڈ کا اعلان

لاہور:پاکستان کرکٹ بورڈ (PCB) نے دورۂ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے قومی ٹیسٹ ٹیم میں بڑی تبدیلی کرتے ہوئے اسٹار بیٹر بابر اعظم کو دوبارہ ٹیم کا کپتان مقرر کر دیا ہے۔ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے بابر اعظم کو ٹیسٹ ٹیم کا کپتان بنانے کی باقاعدہ منظوری دے دی ہے۔ ذرائع کے مطابق شان مسعود کی ناقص کپتانی اور حالیہ نتائج کے بعد بابر اعظم کو دوبارہ ٹیسٹ ٹیم کی کمان سونپنے کا فیصلہ کیا گیا، حالانکہ چیئرمین پی سی بی کے پاس کپتانی کے لیے کئی دیگر ناموں کی تجویز بھی سامنے آئی تھی۔

دورۂ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ کے لیے پاکستان کے 16 رکنی مضبوط اسکواڈ کا بھی اعلان کر دیا گیا ہے۔ اسکواڈ میں بابر اعظم (کپتان)، شان مسعود، امام الحق، اذان اویس، عبداللہ فضل، سلمان علی آغا، غازی غوری اور محمد رضوان شامل ہیں۔ ان کے علاوہ بالنگ اور آل راؤنڈ شعبے میں ساجد خان، علی عثمان، عامر جمال، محمد علی، محمد عباس، عبید شاہ، اویس ظفر اور خرم شہزاد کو بھی اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔ تاہم، مڈل آرڈر کے بھروسے مند بیٹر سعود شکیل فٹنس مسائل کے باعث اس اہم ترین اسکواڈ میں جگہ نہیں بنا سکے۔ پاکستان ٹیم اپنے اس طویل دورے کا آغاز ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچز سے کرے گی، جہاں پہلا ٹیسٹ میچ 25 سے 29 جولائی تک ٹراوبا میں کھیلا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: فیفا ورلڈ کپ،سخت مقابلہ میں پیراگوئے کو شکست، فرانس کوارٹر فائنل میں پہنچ گیا

ٹیم کی تیاری بہتر ہے، آخری ٹیسٹ میں بالرز کی رفتار کم لگی: عاقب جاوید

پی سی بی کے ڈائریکٹر ہائی پرفارمنس عاقب جاوید نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسکواڈ اور کپتانی میں تبدیلی کی وجوہات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ان کا کہنا تھا کہ مصباح الحق اور سرفراز احمد کو سلیکشن کمیٹی میں آئے ابھی صرف 6 ماہ کا عرصہ ہوا ہے، اور اس قلیل وقت کے باوجود ٹیم کی تیاری کافی بہتر ہے۔ سعود شکیل کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کی فٹنس بہتر ہونے میں ابھی تھوڑا وقت لگے گا جس کی وجہ سے وہ دستیاب نہیں ہیں۔ شان مسعود کے متعلق عاقب جاوید کا کہنا تھا کہ ان کی اپنی انفرادی پرفارمنس تو بہتر رہی ہے، لیکن کپتانی کے لیے کچھ چیزوں اور فیصلوں میں مزید بہتری ہونی چاہیے تھی۔

عاقب جاوید نے مزید کہا کہ کرکٹ میں ہمیشہ یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ جب آپ کپتانی کر رہے ہوں یا پرفارمنس دے رہے ہوں، تو ٹیم کے لیے اس کے مجموعی نتائج کیا آ رہے ہیں۔ انہوں نے بالنگ لائن پر بات کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ آخری ٹیسٹ میچ کے دوران ہمیں واضح طور پر یہ محسوس ہوا کہ ہمارے بالرز کی رفتار (Pace) میں کمی دکھائی دے رہی ہے، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی ہمارا زبردست اور کلیدی بالر ہے جس کی صلاحیتوں پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔