پاکستان اور ایران کی محبت باہمی،پیار نہ ہوتا تو پاکستان کی ثالثی قبول نہ کرتے،اسماعیل بقائی

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پاکستانی نچی چینل سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان محبت دو طرفہ اور باہمی ہے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے اپنےبیان میں کہا کہ اگر دونوں ممالک میں یہ پیار اور گہرا اعتماد موجود نہ ہوتا تو تہران کبھی بھی خطے کے اہم ترین معاملات پر پاکستان کی ثالثی قبول نہ کرتا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن،جہلم ویلی میں امیدواروں کی دستبرداری کا سلسلہ جاری

انہوں نے واضح کیا کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں کئی ممالک ثالثی کے لیے تیار تھے، لیکن ایران نے باضابطہ طور پر صرف پاکستان کو اپنا واحد اور قابلِ بھروسہ ثالث تسلیم کیا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دونوں برادر اسلامی ممالک کے تاریخی روابط اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ وہ ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے ہیں۔

پاکستان کی ثالثی میں کئی ہفتوں سے جاری طویل مذاکرات اور رابطے اسی باہمی محبت اور سفارتی کامیابی کا نتیجہ ہیں۔

اسماعیل بقائی نے دونوں پڑوسی ممالک کے مابین اس تزویراتی اور برادرانہ تعلق کو خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ناگزیر قرار دیا۔

اسماعیل بقائی نے مزید کہا کہ ہم پاکستان کی جانب سے ادا کئے گئے ثالثی کردارپر پاکستانی حکومت اور اس کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کشمیر میدان جنگ بن چکا، نئی دہلی پاکستان اور چین سے تعلقات بہتر بنائے،محبوبہ مفتی

انہوں نےمزید کہا کہ پاکستان اور ایران کی دوطرفہ محبت ہمیشہ باقی رہے گی، پاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ پیار ہمیشہ قائم رہے گا۔