کشمیر میدان جنگ بن چکا، نئی دہلی پاکستان اور چین سے تعلقات بہتر بنائے،محبوبہ مفتی

سری نگر(کشمیر ڈیجیٹل)بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموںوکشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے 5 اگست 2019 کو 370 اور 35 اے کی بھارتی آئین کی دفعات منسوخ کرنے کے بی جے پی حکومت کے فیصلے کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

محبوبہ مفتی کا کہنا تھا کہ یہ اقدام مقبوضہ علاقے کے لوگوں میں سیاسی عدم اطمینان دور کرنے میں ناکام رہا ہے اور وہ خود کو بے بس و تنہا محسوس کر رہے ہیں۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق محبوبہ مفتی نے سری نگر میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ بی جے پی کو علاقے کی خصوصی حیثیت ختم کر کے کچھ حاصل نہیں ہوا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن،جہلم ویلی میں امیدواروں کی دستبرداری کا سلسلہ جاری

مقبوضہ علاقہ کھلی جیل کا منظر پیش کر رہا ہے جہاں لوگ اظہار رائے کی آزادی کے حق سے محروم ہیں۔جموں و کشمیر میدان جنگ بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان موجود دیرینہ تنازعہ کشمیر نے خطے کو اس کی بے پناہ اقتصادی اور تزویراتی صلاحیت سے محروم کر دیا ہے۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ نئی دلی کو چاہیے کہ وہ پاکستان اور چین کیساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائے اور علاقی تعاون کے فروغ کیلئے سارک کا پلیٹ فارم استعمال کرے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں حالات بدل رہے ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:

ایران نے آبنائے ہرمز کا استعمال کرتے ہوئے امریکہ جیسے طاقتور ملک کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ جموں و کشمیر کی بھی ایک تزویراتی جغرافیائی پوزیشن ہے ۔

جموں وکشمیر کا جغرافیائی محل وقوع علاقائی روابط، تجارت اور اقتصادی ترقی کے بے پناہ مواقع فراہم کرتا ہے۔

محبوبہ مفتی نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت عالمی سطح پر تزویراتی اعتبار سے اہم مقام پر ہے اوریہ کہا جا رہا ہے کہ اس نے تیسری عالمی جنگ کو روک دیا۔