گلگت بلتستان کے علاقے شگر سے تعلق رکھنے والے 2نوجوان کوہ پیمائوں نے نانگا پربت سر کرکے قومی پرچم لہرا دیا۔
شگر کے گاؤں ارندو باشہ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان کوہ پیما، محبوب علی اور عباس علی نے دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت (8,126 میٹر) کامیابی سے سر کر کے ایک اہم اعزاز اپنے نام کر لیا۔
یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان: کے-6 چوٹی پر برفانی تودہ گرنے سے فرانسیسی کوہ پیما جاں بحق
دونوں کوہ پیماؤں نے 14 Peaks Expeditions کی ٹیم کے ہمراہ چوٹی تک رسائی حاصل کی اور وہاں قومی پرچم لہرا کر پاکستان اور گلگت بلتستان کا نام روشن کیا۔
نانگا پربت، جسے “قاتل پہاڑ” (Killer Mountain) بھی کہا جاتا ہے، دنیا کی مشکل ترین اور خطرناک چوٹیوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس چوٹی کو سر کرنا کوہ پیمائی کی دنیا میں ایک بڑی کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔
اس تاریخی کامیابی پر شگر، گلگت بلتستان اور ملک بھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مختلف سماجی، سیاسی اور عوامی حلقوں کی جانب سے دونوں نوجوان کوہ پیماؤں کو مبارکباد پیش کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ماؤنٹ ایورسٹ پر 6 دن لاپتہ رہنے والا نیپالی کوہ پیما زندہ مل گیا
اہلِ علاقہ نے امید ظاہر کی ہے کہ محبوب علی اور عباس علی بحفاظت بیس کیمپ واپس پہنچیں گے اور ان کی یہ کامیابی شگر اور گلگت بلتستان کے نوجوانوں کے لیے حوصلہ افزا مثال ثابت ہوگی۔
یاد رہےکہ گلگت بلتستان میں 9سے زائد6ہزارمیٹر سے بلند ہیں جبکہ نانگا پربت کے ٹو کے بعد دوسری بلندترین چوٹی ہے جبکہ مقامی سطح پر درجنوں کوہ پیما موجود ہیں۔




