کشمیری کوہ پیما ولید نثار نے 14 اگست، یومِ آزادیٔ پاکستان کے موقع پر 5410 میٹر بلند بری لا پیک کو کامیابی سے سر کر کے ملک و قوم کا نام روشن کر دیا۔
ولید نثار نے یہ شاندار کامیابی پاکستان کے یومِ آزادی کے موقع پر پوری پاکستانی قوم کے نام کرتے ہوئے وطنِ عزیز سے اپنی محبت، عقیدت اور وابستگی کا اظہار کیا۔
ولید نثار کی جانب سے بلند پہاڑی چوٹی کو سر کرنا کوہ پیمائی کے میدان میں ایک قابلِ ذکر کامیابی قرار دی جا رہی ہے۔
دشوار گزار پہاڑی راستوں، بلند سطحِ سمندر اور سخت موسمی حالات کے باوجود چوٹی تک پہنچنے کا یہ سفر غیر معمولی عزم، حوصلے، جسمانی فٹنس اور مسلسل محنت کا تقاضا کرتا ہے۔
ولید نثار نے چوٹی پر پہنچ کر پاکستان کے یومِ آزادی کو یادگار بنایا اور اپنی اس کامیابی کو پاکستانی قوم کے نام منسوب کیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستانی خواتین کوہ پیماؤں نے ’’خسر گنگ ‘‘سر کر کے تاریخ رقم کر دی
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے قومی دن کے موقع پر بری لا پیک کی چوٹی پر قومی پرچم لہرانا ان کے لیے باعثِ فخر اور ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ وہ اپنی اس کامیابی کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی نوجوان عزم، محنت اور حوصلے کے ذریعے مشکل سے مشکل اہداف حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
کوہ پیمائی جیسے مشکل اور چیلنجنگ شعبے میں نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور پاکستان کے خوبصورت پہاڑی علاقوں کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنا بھی ان کے مقاصد میں شامل ہے۔
بری لا پیک کی کامیاب سمٹ پر کوہ پیمائی سے وابستہ افراد اور مختلف حلقوں کی جانب سے ولید نثار کو مبارکباد پیش کی گئی ہے۔ ان کی اس کامیابی کو کشمیر اور پاکستان کیلئے باعثِ فخر قرار دیا جا رہا ہے۔
14 اگست کے موقع پر حاصل ہونے والی یہ کامیابی اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتی ہے کہ ولید نثار نے پاکستان کے قومی پرچم اور قومی جذبے کو بلند پہاڑ کی چوٹی تک پہنچا کر یومِ آزادی کو ایک منفرد انداز میں منایا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گلگت بلتستان کے 2کوہ پیمائوں نے نانگا پربت سر کر کے قومی پرچم لہرا دیا
ان کی یہ کامیابی نوجوان نسل کے لیے عزم، حوصلے اور وطن سے محبت کی ایک خوبصورت مثال بن گئی ہے۔




