آزاد جموں و کشمیر کی سیاست سے اس وقت کی سب سے بڑی اور سنسنی خیز بریکنگ نیوز سامنے آئی ہے، جہاں سابق وزیر اعظم اور سینئر سیاستدان سردار تنویر الیاس خان نے بدھ کے روز پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے باقاعدہ طور پر اپنی راہیں جدا کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ ریاست میں ہونے والے آئندہ عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کے معاملے پر پارٹی قیادت کے ساتھ پیدا ہونے والے شدید اختلافات کے بعد یہ بڑا سیاسی فیصلہ سامنے آیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سردار تنویر الیاس پاکستان پیپلز پارٹی سے وسطی باغ اور نیلم سمیت مجموعی طور پر چار انتخابی حلقوں کے ٹکٹ مانگ رہے تھے، تاہم پارٹی قیادت کے ساتھ ان مطالبات پر اتفاق نہ ہو سکا۔
یہ بھی پڑھیں: سردار تنویر الیاس کو بڑا جھٹکا؛ حلقہ وسطی باغ سے سردار ضیاء القمر پی پی پی کے امیدوار نامزد
بلاول بھٹو زرداری کو استعفیٰ ارسال:
تفصیلات کے مطابق، پاکستان پیپلز پارٹی نے حلقہ وسطی باغ سے سینیئر سیاستدان سردار ضیاء القمر کو باقاعدہ طور پر انتخابی ٹکٹ جاری کر دیا تھا، جس پر سردار تنویر الیاس ڈٹ گئے تھے۔ معتبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ سابق وزیر اعظم نے پیپلز پارٹی سے الگ ہوتے ہوئے اپنا باقاعدہ استعفیٰ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری کو ارسال کر دیا ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ رات گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر سمیت پیپلز پارٹی کی مرکزی قیادت نے سردار تنویر الیاس کی رہائش گاہ کا دورہ بھی کیا تھا اور انہیں منانے کی کوششیں کی گئیں، تاہم وہ اپنے اصولی موقف پر پوری طرح قائم رہے اور مصالحتی کوششیں ناکام ہو گئیں۔
کابینہ وزیر چوہدری علی شان سونی کا بھی استعفیٰ:
سردار تنویر الیاس کے اس فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر حکومت میں بھی بڑا دھچکا لگا ہے۔ حکومتِ آزاد کشمیر کے موجودہ وزیر اور سردار تنویر الیاس کے قریبی ساتھی چوہدری علی شان سونی نے بھی پاکستان پیپلز پارٹی اور اپنی وزارت سے باقاعدہ طور پر استعفیٰ دے دیا ہے۔
مزید پڑھیں: مجھے نظر انداز کرنے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا، تنویر الیاس کی پیپلزپارٹی قیادت کو وارننگ
سردار تنویر الیاس اور علی شان سونی کی بیک وقت علیحدگی کے بعد آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کا انتخابی گراف اور سیاسی جوڑ توڑ شدید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے، جبکہ مخالف کیمپس میں اس بڑی پیش رفت کو گہری نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔




