دھیرکوٹ (کشمیر ڈیجیٹل) آزادکشمیر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ممبر کالعدم ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر اور صہیب جاوید کی گرفتاری کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے
آزادکشمیر پولیس کے ذرائع کے مطابق شوکت نواز میر اور صہیب جاوید کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔
پولیس ذرائع کے مطابق ممبر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی شوکت نواز میر اور صہیب جاوید کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں ۔
آزادکشمیر پولیس کے مطابق کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے دونوں رہنمائوں کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں ۔ تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی ۔
اس سے قبل برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں شوکت نواز میر کی گرفتاری کی خبر نشر کی تھی جو کہ جعلی نکلی
آزادکشمیر پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مرکزی رہنما شوکت جاوید میر اور صہیب جاوید کی گرفتاری سے متعلق بی بی سی کی خبریں جعلی اور بے بنیاد ہے ۔
سی کے قریبی علاقے میں آپریشن کے دوران کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما شوکت نواز میراور ساتھی راجہ صہیب جاوید کو گرفتار کرلیاگیا۔
آزادکشمیر پولیس ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ ممبرکالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں تاہم ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جاسکی ۔
اس سے قبل بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سرکردہ رہنما اور کور کمیٹی کے رکن شوکت نواز میر کو ساتھی راجہ شعیب کو ودیگر سمیت دھیرکوٹ سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:لاہور: ٹیوشن سینٹر کی چھت گرنے سے 14 بچے جاں بحق،امدادی سرگرمیاں جاری
ذرائع کے مطابق شوکت نواز میر پولیس کو مختلف مقدمات میں مطلوب تھے اور ان کی گرفتاری کیلئے پولیس چھاپے ماررہی تھی مگر تاحال پولیس انہیں گرفتارنہیں کرسکی۔۔
یاد رہے کہ احتجاجی تحریک کے تناظر میں حکومت کشمیر نے عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کے بعض مرکزی رہنماؤں کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا تھا۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے چار سرگرم رہنماؤں کی گرفتاری میں مدد فراہم کرنے والوں کے لیے فی کس ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان بھی کیا گیا۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق انعامی فہرست میں شوکت نواز میر، راجہ صہیب جاوید، عمر نذیر کشمیری، خواجہ مہران ارشد اور سردار امان خان شامل ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:بھارتی گودی میڈیا اپنی کٹھ پتلی کالعدم ایکشن کمیٹی کو بچانے کیلئے میدان میں آگیا
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی میں رینجرز کی بھاری نفری نے حصہ لیا، جس کے بعد شوکت نواز میر کو رینجرز کی گاڑیوں میں نامعلوم مقام کی جانب منتقل کر دیا گیا۔




