آزاد جموں و کشمیر کے شہر میرپور کے چوک شہیدان میں سول سوسائٹی کی جانب سے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JAAC) کے خلاف ایک احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کے شرکاء نے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور خطے میں امن، استحکام اور قانون کی بالادستی کا پرزور مطالبہ کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے اسمبلی امیدوار عبدالشکور مغل سمیت دیگر سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ عوامی امن کو تباہ کرنے اور ریاستی استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار امن اور قومی یکجہتی کے لیے امن و امان کو برقرار رکھنا اور شہریوں کا تحفظ یقینی بنانا ناگزیر ہے۔ اس موقع پر ریلی کے شرکاء نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر “Say No to JAAC” کے واضح نعرے درج تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کا بھارتی بیانیہ ناکام،کشمیری عوام نے مسترد کردیا،ساجدہ احمد کشمیری
تاجر برادری کو دھمکیاں اور عوامی ردِعمل:
دوسری جانب، آزاد جموں و کشمیر کے عوام اور تاجر برادری نے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے عزائم کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ ہڑتال کی اپیل ناکام ہونے پر کالعدم کمیٹی کے شرپسند عناصر نے پرامن تاجروں کو دھمکیاں دینا شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کے مطابق، کالعدم کمیٹی کے رہنما عمر نذیر نے ہڑتال کے دوران دکانیں کھولنے والے تاجروں کو کھلم کھلا دھمکیاں دیتے ہوئے ‘غداری کے سرٹیفکیٹ’ بانٹنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ عمر نذیر نے تاجروں کو ہراساں کرتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں جو بھی دکانیں کھولے گا، اسے ہمیشہ غدار کے طور پر یاد رکھا جائے گا اور کہا جائے گا کہ یہ غدار کی دکان ہے اور یہ سہولت کار کی دکان ہے۔ اپنے خفیہ پیغام میں دکانداروں پر خوف طاری کرنے کے لیے عمر نذیر نے باغ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں ایک بیکری مالک نے دکان کھولی تھی، تو اسے اپنی بیکری بیچ کر وہاں سے فرار ہونا پڑا۔
ماہرین کا تجزیہ: یہ دکانداروں کے دشمن بن چکے ہیں:
معاشی اور علاقائی ماہرین کے مطابق، اس ممنوعہ کمیٹی کے رہنما خود دکانداروں کے دشمن بن چکے ہیں۔ جب عوام نے ان کی دکانیں بند کرنے کی اپیل کو مسترد کر دیا، تو اب یہ عناصر دھمکیوں کے زور پر زبردستی دکانیں بند کروانا چاہتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں کاروبار کرنے والے پرامن تاجروں کو اس طرح ہراساں کرنا شرپسند عناصر کی جانب سے سراسر ‘اقتصادی دہشت گردی’ کا واضح ثبوت ہے۔




