پیمرا کے حکم نامے کی مکمل تائید کرتے ہوئے جیو نیوز کی جانب سے سوشل میڈیا اور ملک بھر میں نشریات کی بندش پر عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے “شاباش جیو نیوز” کے ہیش ٹیگ اور تعریفی پیغامات کے ساتھ زبردست ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔ حالات کی نزاکت اور عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے جیو مالکان کے اس فوری، پختہ اور انتہائی ذمہ دارانہ فیصلے کو سوشل میڈیا پر خوب سراہا جا رہا ہے، جہاں صارفین روایتی ضد یا مظلومیت کا کارڈ کھیلنے کے بجائے غلطی تسلیم کرنے اور خود ہی ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اختیار کرنے کے اس جرات مندانہ اقدام کو دیگر میڈیا ہاؤسز کے لیے ایک قابلِ تقلید مثال قرار دے رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق، پاکستان کے سب سے بڑے نجی میڈیا نیٹ ورک ‘جیو نیوز’ کے مالکان اور اعلیٰ انتظامیہ نے حالیہ پیدا ہونے والی حساس صورتحال اور عوامی جذبات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے ایک انتہائی اہم، فوری اور ذمہ دارانہ فیصلہ کیا ہے۔ جیو نیوز انتظامیہ نے ایک پروگرام میں ہونے والی مبینہ غفلت پر عوامی جذبات کا گہرا احترام کرتے ہوئے باقاعدہ معذرت کر لی ہے اور اپنی نشریات اور تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو عارضی طور پر بند کر دیا ہے۔ ایک حالیہ پروگرام میں ہونے والی چند افراد کی مبینہ غفلت اور غلطی کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ داؤ پر لگ گئی تھی، تاہم جیو انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو فی الفور محسوس کیا اور روایتی چشم پوشی کے برعکس متعلقہ پروگرام کی تیاری اور نشریات میں شامل تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ہے۔ اسے میڈیا انڈسٹری میں خود احتسابی اور ذمہ دارانہ طرزِ عمل کی ایک اہم اور مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
ایک پروگرام کی غلطی اور خود احتسابی کا عمل:
رپورٹس کے مطابق جیو نیوز کے ایک مخصوص پروگرام میں مانیٹرنگ اور ادارتی نگرانی کی مبینہ کمی کے باعث ایک سنگین غلطی سرزد ہوئی تھی، جس سے عوامی اور مذہبی جذبات کو شدید ٹھیس پہنچی۔ اس حالیہ واقعے میں ہونے والی چند افراد کی مبینہ غفلت اور غلطی کی وجہ سے پورے ادارے کی ساکھ داؤ پر لگ گئی تھی، تاہم جیو انتظامیہ نے معاملے کی سنگینی کو فی الفور محسوس کیا اور روایتی چشم پوشی کے برعکس متعلقہ پروگرام کی تیاری اور نشریات میں شامل تمام ذمہ دار افراد کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی ہے۔ اسے میڈیا انڈسٹری میں خود احتسابی کی ایک اہم اور مثبت مثال قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیمرا حکم نامے کے بعد جیو نیوز کی سوشل میڈیا مختلف پلیٹ فارمز پر نشریات بند ہونا شروع
عوامی جذبات کا احترام اور مکمل ڈیجیٹل بلیک آؤٹ:
جیو انتظامیہ نے عوامی و مذہبی حساسیت کا احترام کرتے ہوئے صرف کاغذی معذرت نامے پر اکتفا نہیں کیا، بلکہ اپنے عارضی ڈیجیٹل بلیک آؤٹ کے ذریعے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ وہ معاملے کی حساسیت اور سنگینی سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ یوٹیوب پر لائیو اسٹریمنگ معطل کرنے کے فوراً بعد، جیو اب پاکستان کے مقبول ترین اور سب سے زیادہ دیکھے جانے والے او ٹی ٹی پلیٹ فارمز میں سے ایک، ’تماشا ایپ‘ پر بھی بند ہو گیا ہے۔
’تماشا‘ ایپ سے جیو کی لائیو فیڈز کا اچانک غائب ہونا اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ جیو انتظامیہ نے انٹرنیٹ اور تمام تیسرے فریق (تھرڈ پارٹی) کے اسٹریمنگ پلیٹ فارمز سے خود کو مکمل طور پر الگ کر لیا ہے۔ پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ استعمال کرنے والے کروڑوں صارفین، جو جیو نیوز کی لائیو کوریج، ٹاک شوز اور بریکنگ نیوز دیکھنے کے لیے ‘تماشا ایپ’ کا رخ کرتے تھے، اب اس اسٹریمنگ سروس پر جیو کا لوگو اور فیڈ تلاش کرنے میں ناکام ہیں۔ ‘تماشا’ پر جیو کی بندش اس لیے بھی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ یہ پلیٹ فارم پاکستان میں لائیو ٹی وی اسٹریمنگ کی مارکیٹ کا ایک بڑا حصہ کنٹرول کرتا ہے اور اس اقدام سے جیو کا ڈیجیٹل ناظرین کا گراف اچانک نیچے گرا ہے۔ جیو مالکان کے اس فوری ردِعمل، بروقت معذرت اور جرات مندانہ اصلاحی اقدامات کے بعد میڈیا اور عوامی حلقوں کی جانب سے ان کے اس طرزِ عمل کو داد دی جا رہی ہے۔
ماضی کے بحران اور صحافتی تاریخ میں ’رول ماڈل‘:
پاکستان کی میڈیا انڈسٹری میں لائیو شوز یا ریکارڈڈ پروگرامز کے دوران مذہبی اور قومی حساسیت کے معاملات پر ماضی میں بھی کئی چینلز کو پیمرا کی جانب سے بھاری جرمانوں، معطلی اور عوامی بائیکاٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے اور جیو نیوز کو بھی ماضی میں اس طرح کے شدید بحرانوں کا تجربہ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کسی بھی بیرونی دباؤ، قانونی کارروائی یا پیمرا کے بڑے ایکشن سے قبل ہی، جیو کے مالکان نے پروایکٹو حکمتِ عملی اپناتے ہوئے خود ہی اپنی لائیو فیڈز کو ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے ہٹا دیا اور اندرونی اسکریننگ کا نظام فعال کر دیا تاکہ بحران کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔
جیو نیوز کی انتظامیہ کا یہ رویہ پاکستان کی صحافتی تاریخ میں ایک ‘رول ماڈل’ یا قابلِ تقلید مثال بن سکتا ہے۔ عام طور پر پاکستانی میڈیا میں جب بھی کسی چینل سے کوئی غلطی ہوتی ہے، تو اسے ‘آزادیٔ اظہارِ رائے پر حملہ’ قرار دے کر مظلومیت کا کارڈ کھیلا جاتا ہے یا تکنیکی خرابی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن جیو مالکان نے پختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ غلطی ہوئی ہے اور اس پر پچھتاوے کا عملی اظہار بھی کیا۔ واضح رہے کہ اربوں روپے کے بزنس اور لاکھوں روزانہ کے ناظرین کو داؤ پر لگا کر اپنی نشریات کو عارضی طور پر خود بند کرنا کوئی آسان کارپوریٹ فیصلہ نہیں ہوتا۔ جیو نے مالی نقصان کو برداشت کیا لیکن عوامی اور مذہبی اقدار پر سمجھوتہ نہیں کیا۔
مستقبل کے لیے مؤثر ادارتی نگرانی کی امید:
میڈیا مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے ادارے کی اصل پہچان یہ نہیں ہوتی کہ اس سے کبھی کوئی غلطی نہیں ہوگی، بلکہ اصل پہچان غلطی کے بعد اختیار کیے جانے والے رویے سے ہوتی ہے۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس تلخ واقعے سے سبق سیکھتے ہوئے جیو نیوز مستقبل میں اپنی ‘ایڈیٹوریل مانیٹرنگ’ اور سنسرشپ کے نظام کو مزید فول پروف اور مؤثر بنائے گا تاکہ مذہبی حساسیت، قومی اقدار اور عوامی عقائد کے حوالے سے ایسی ناخوشگوار صورتحال دوبارہ کبھی پیدا نہ ہو۔ ذمہ دارانہ احتساب اور بروقت معذرت کے یہ اصول اب پاکستان کے دیگر میڈیا ہاؤسز کے لیے بھی ایک گائیڈ لائن ہونے چاہئیں کہ ریٹنگ اور بریکنگ نیوز کی دوڑ میں اخلاقی اور مذہبی حدود کا خیال رکھنا سب سے مقدم ہے۔




