محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے ملک بھر میں مون سون سیزن کے باقاعدہ آغاز کی پیشگوئی کر دی

محکمہ موسمیات نے یکم جولائی سے ملک بھر میں مون سون سیزن کے باقاعدہ آغاز کی پیشگوئی کر دی ہے۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شمال مشرقی پنجاب اور آزاد کشمیر کے راستوں سے مون سون ہواؤں کے ملک میں داخل ہونے کا قوی امکان ہے، جس کے بعد موسمی نظام تبدیل ہو جائے گا۔

مون سون ہواؤں کے ملک میں داخلے اور موسمی نظام میں اس بڑی تبدیلی کے ساتھ ہی این ڈی ایم اے کے نیشنل ایمرجینسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے بھی پہاڑی اور بالائی علاقوں میں گلیشئیر پگھلنے اور اس سے پیدا ہونے والے ممکنہ خطرات کا ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ جاری کردہ الرٹ کے مطابق، موجودہ موسمی صورتحال این ای او سی کی جانب سے 3 سے 4 ماہ قبل جاری کیے گئے موسمی جائزے کے عین مطابق ہے، جس کی بنیاد پر تمام متعلقہ اداروں کو پیشگی آگاہی یقینی بنائی جا رہی ہے۔

قبل از وقت موسمی جائزہ اور ہنگامی تیاریاں:

این ڈی ایم اے کے مطابق، یہ قبل از وقت موسمی جائزہ متعلقہ اداروں کے لیے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے اور بر وقت تیاری یقینی بنانے میں انتہائی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ این ای او سی نے 27 جون سے 03 جولائی 2026 تک گلگت بلتستان، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر کے لیے گلیشیائی برف پگھلنے کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ تیز ہونے کا واضح امکان ظاہر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:جون کے آخر میں شدید تپش، تاہم 2 جولائی سے نئے اور طاقتور بارش سسٹم کی ملک میں آمد متوقع

شدید گرمی اور بارشوں کے باعث گلیشیئرز پر دباؤ:

ملک میں مسلسل جاری شدید گرمی اور متوقع بارشوں کے باعث گلیشیئرز پگھلنے کی رفتار میں مزید اضافے کا شدید خدشہ ہے۔ گلیشیئرز کے اس تیزی سے پگھلنے کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح اچانک بلند ہو سکتی ہے۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ گلیشیائی جھیلوں پر دباؤ بڑھنے سے پانی کا اخراج، اچانک سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور مٹی کے تودے گرنے کا شدید خطرہ ہے۔

متاثرہ اضلاع اور بالائی علاقوں کے لیے خصوصی ہدایات:

حکام نے ہنزہ، نگر، غذر، اسکردو، شگر، گانچھے، کھرمنگ، استور، دیامر، اپر و لوئر چترال، سوات اور ان کے ملحقہ علاقوں میں خصوصی احتیاط برتنے کی سخت ہدایت کی ہے۔ گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا کے گلیشیئر سے ملحقہ وادیوں اور آبادیوں میں خطرات کے پیش نظر مقامی انتظامیہ کو مکمل الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے، جبکہ دریاؤں، ندی نالوں اور گلیشیائی جھیلوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

سیاحوں، مسافروں اور مقامی افراد کے لیے انتباہ:

این ڈی ایم اے نے تاکید کی ہے کہ سیاح، مسافر اور مقامی افراد گلیشیئر سے نکلنے والے ندی نالوں اور دریا کناروں پر جانے سے مکمل اجتناب کریں۔ پہاڑی علاقوں میں سفر سے قبل موسم کی صورتحال اور سرکاری انتباہات سے ضرور آگاہی حاصل کریں۔ اگر پانی کی سطح میں اچانک اضافہ، پانی کے رنگ میں تبدیلی یا گلیشیئر سے غیر معمولی آوازیں سنائی دیں تو فوری طور پر متعلقہ انتظامیہ کو اطلاع دی جائے۔

بنیادی ڈھانچے کو نقصان اور راستوں کی بندش کا خدشہ:

ممکنہ طور پر آنے والے اچانک سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے شاہراہوں، پلوں، آبپاشی کے نظام اور دیگر بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔ پہاڑی علاقوں میں بعض رابطہ سڑکیں عارضی طور پر بند ہونے اور نشیبی آبادیوں کے شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو گلیشیائی جھیلوں، دریاؤں اور موسمی صورتحال کی مسلسل نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے۔

صوبائی اداروں کو ہدایات اور ڈیجیٹل الرٹ ایپ کا استعمال:

دورانِ سفر تمام شہریوں کو انتظامیہ، ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ہدایات پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹیز (پی ڈی ایم ایز) کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کی تیاری اور ضروری مشینری و وسائل کی بروقت دستیابی یقینی بنانے کا حکم دیا ہے۔ این ڈی ایم اے کا این ای او سی صورتحال کی مسلسل نگرانی کر رہا ہے، جبکہ شہری موسمی صورتحال، ممکنہ خطرات اور حفاظتی تدابیر کے لیے “پاک این ڈی ایم اے ڈیزاسٹر الرٹ” موبائل ایپ سے رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔