سینئر صحافی ابصار عالم کا کہنا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی برقرار رہے گی،۔
پولیس اہلکاروں کے پیٹ پھاڑنے اور لاشوں کی بے حرمتی کرنیوالے قاتلوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی پر پابندی برقرار،لاشوں کی بے حرمتی کرنیوالے قاتلوں کو کوئی رعایت نہیں ملے گی،ابصار عالم
عوامی ایکشن کمیٹی پر عائد پابندی فی الحال کسی صورت ختم نہیں ہوگی، اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب جو بھی گارنٹیز دیں گے اس کے باوجود چند اہم فیصلے برقرار رہیں گے۔
حکومت کا یہ واضح اور دوٹوک مؤقف ہے کہ پچھلی دفعہ شرپسندوں پر درج کیسز واپس لے کر بہت بڑی غلطی کی گئی تھی، جس کا خمیازہ اور نقصان آج ہمیں دوبارہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر میں راستوں کی بندش سے متعلق بی بی سی کی خبر حقائق کے منافی، آئی جی لیاقت علی ملک
اس لیے اب یہ غلطی دوبارہ نہیں دہرائی جائے گی۔ کمیٹی کے چار اہم رہنماؤں سردار امان، خواجہ مہران، خالد نواز شوکت نواز کشمیری اور سردار عمر نذیر کشمیری پر قائم مقدمات اور کیسز کو کسی صورت واپس نہیں لیا جائے گا۔
اس سخت ترین فیصلے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان عناصر نے احتجاج کی آڑ میں پولیس کے جوانوں کو بے دردی سے قتل کیا گیا۔ پولیس اہلکاروں کے پیٹ پھاڑے، انتڑیاں نکالیں اور ان کی لاشوں کی بدترین بے حرمتی کی گئی۔
اس کے علاوہ جو بدترین انتشار پھیلایا گیا، سرکاری املاک کو آگ لگائی گئی اور سی ایم ایچ ہسپتال سمیت گاڑیوں کو تباہ کیا گیا ان سنگین اور ہولناک جرائم پر ملوث کسی بھی کردار سے اب کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔




