آزادکشمیر میں راستوں کی بندش سے متعلق بی بی سی کی خبر حقائق کے منافی، آئی جی لیاقت علی ملک

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)آئی جی پولیس آزادکشمیر لیاقت علی ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ شرپسند عناصر کشمیر کی صورتحال سے متعلق جھوٹا پروپیگنڈا کررہے ہیں ۔

آئی جی آزادکشمیرلیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے ذریعے نئے بیانیے جاتے ہیں ، عوام کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ آزادکشمیر میں راستوں کی بندش سے متعلق بی بی سی کی خبر حقائق کے منافی ہے ۔جھوٹی اور جعلی خبریں آج کے دور کا سب سے بڑا چیلنج ہے ،

مزید یہ بھی پڑھیں:مظفرآباد کے سیاسی و سماجی حلقے اور عام شہری کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے

آئی جی لیاقت علی ملک کا کہنا تھا کہ آزادکشمیر کے تمام راستے کھلے ہیں ، آنے جانیوالی تمام سڑکیں بحال ہیں اور لوگوں کی آمد ورفت بھی جاری ہے ۔

یہاں پر پولیس لوگوں کی عزت جان، مال کے تحفظ کیلئے تعینات ہے ۔لوگوں کی مشکلات بڑھانے کیلئے نہیں ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ملک کے کن کن علاقوں میں آندھی اور بارش ہو گی؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی

آئی جی آزادکشمیر کا مزید کہنا تھا کہ خوارک سے بھری گاڑیاں روکنے کا بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔کسی بھی خبر کی فیکٹ چیک کے ذریعے تصدیق کی جاسکتی ہے ۔

آئی جی آزادکشمیر کا کہنا ہے کہ قومی یا بین الاقوامی میڈیا اے آئی فیک ویڈیوز ، سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں پر یقین کرنے کے بجائے محکمہ پولیس آزادکشمیر کا فیس بک پیج فالو کریں یا پولیس حکام سے رابطہ کریں ۔

آئی جی آزادکشمیر لیاقت علی ملک نے کہا کہ عوام کسی بھی مشکل میں آزادکشمیر پولیس کی ہیلپ لائن پر رابطہ کرسکتے ہیں،عوام کسی بھی خبر کو شیئر کرنے سے پہلے تصدیق لازمی کرلیں ۔

آئی جی آزادکشمیر کا مزید کہنا ہے کہ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے عناصر عوام کیلئے مشکلات پیدا کررہے ہیں جبکہ پولیس عوام کو تحفظ فراہم کررہی ہے ۔

آئی جی آزادکشمیر لیاقت علی ملک نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے سے جھوٹا بیانیہ بنا کر توجہ حاصل کرنے کی مذموم کوشش کی جارہی ہے ۔ اوورسیز کشمیریوں کو یقین کرنے سے پہلے تصدیق کرلینی چاہیے ۔

آئی جی آزادکشمیر نے مزید کہا کہ راولاکوٹ کے علاوہ آزادکشمیر کے تمام راستے کھلے ہیں ، پولیس صرف عوامی تحفظ کیلئے تعینات کی گئی ہے۔ کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسند عناصر سڑکیں بند، گاڑیاں لوٹتے اور ڈرائیوروں پر تشدد کرتے ہیں ۔

آزاد جموں و کشمیر کے انسپکٹر جنرل پولیس کیپٹن (ر) لیاقت علی ملک نے کہا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں شدید قسم کی دغاباز میڈیا جنگ (ہائبرڈ وارفیئر) جاری ہے، جہاں مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ مواد کی مدد سے گمراہ کن اور جھوٹی معلومات پر مبنی مہمات چلائی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یورپ بھر میں مقیم پاکستانی تارکینِ وطن، بالخصوص کشمیری برادری کو انٹرنیٹ پر مبنی دہشت گردی (سائبر ٹیررازم) کے اس پہلو کو ذہن میں رکھتے ہوئے حقائق جاننے کیلئے ہمیشہ حکومت کے تصدیق شدہ میڈیا اور آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ حال ہی میں برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے سچے اور معتبر حقائق کو نظر انداز کرتے ہوئے من گھڑت معلومات اور الزامات پر مبنی ایک گمراہ کن مضمون شائع کیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ آزاد کشمیر پولیس مال بردار گاڑیوں کو روک رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر پولیس اپنے سابقہ اخباری بیانات میں پہلے ہی واضح کر چکی ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں داخل ہونے والی کسی بھی قسم کی آمد و رفت (ٹرانسپورٹ) کیلئے ایسی کوئی رکاوٹ کھڑی نہیں کی گئی،

لہٰذا بی بی سی اردو کا مذکورہ مضمون محض ایک بے بنیاد الزام تھا جس کا مقصد لوگوں کو اس معاملے پر گمراہ کرنا تھا۔

انہوں نے کہا کہ یہ مضمون زمینی حقائق سے کوسوں دور ہے کیونکہ اس میں موقع پر جا کر کوئی پڑتال نہیں کی گئی، جو من گھڑت صحافت کی نشاندہی کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر معروف معلوماتی ادارے سے ایسی غیر ذمہ دارانہ صحافت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

مزید برآں اس مضمون کیلئے حکومتی ذرائع سے کوئی موقف یا وضاحت حاصل کرنے کی زحمت بھی نہیں کی گئی۔۔

باوجود اس کے کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی قسم کی پوچھ گچھ کے لیے رابطہ نمبرز بڑے پیمانے پر مشتہر کئے گئے تھے۔

آئی جی پولیس نے کہا کہ چیف سیکرٹری آزاد جموں و کشمیر اور وہ خود 23 جون 2026 کو منعقدہ پریس کانفرنس میں اس معاملے کی وضاحت کر چکے ہیں ۔۔

پولیس آزاد کشمیر میں داخل ہونے والی کسی بھی قسم کی ٹریفک کو نہیں روک رہی، خواہ وہ روزمرہ کی اشیاء سے لادے ٹرک ہوں یا پبلک ٹرانسپورٹ۔

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مظاہرین دن دِہاڑے مال بردار ٹرکوں پر حملے کر رہے ہیں اور سامان چھین رہے ہیں۔

ان کے مطابق اس معاملے کا حقائق کی پڑتال (فیکٹ چیکس) کے ذریعے تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے اور آزاد کشمیر کے محکمہ تعلقاتِ عامہ (پی آئی ڈی) نے بھی اپنے آفیشل ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ کے ذریعے تمام تفصیلات کو سچائی پر مبنی شواہد کے ساتھ انٹرنیٹ پر جاری کیا ہے۔

انہوں نے ملک بھر کے شہریوں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مستند اور سچی خبروں کے حصول کیلئے حکومت کے آفیشل میڈیا اور سوشل میڈیا ذرائع، بشمول ایکس (ٹویٹر) اکاؤنٹ اور حکومت کے دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو فالو کریں۔

آئی جی پولیس نے دوبارہ واضح کیا کہ تمام داخلی راستے، خواہ وہ کوہالہ ہو، آزاد پتن ہو یا برارکوٹ، ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بغیر کسی مداخلت کے کھلے ہیں، ماسوائے پولیس کے طریقہ کار کے تحت معمول کی حفاظتی تلاشی کے۔

تاہم کچھ مقامات پر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے عناصر نے زبردستی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر رکھی ہیں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان رکاوٹوں کو دور کرنے اور ان مقامات پر سڑکیں کھلوا کر عام عوام کی مدد کیلئے مستقل طور پر مامور ہیں۔

انہوں نے تمام الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز اور صحافیوں سے گزارش کی کہ نشریات سے پہلے آزاد کشمیر پولیس سے متعلق کسی بھی خبر کی تصدیق آفیشل ترجمان (پی آر او) کے دفتر سے لازمی کریں۔۔

غیر تصدیق شدہ کلپس، تبدیل کی گئی (ایڈٹ شدہ) ویڈیوز یا نامعلوم سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی پوسٹس کو نشر کرنے سے گریز کریں۔۔

عوامی امن و امان کو خراب کرنے والی جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کریں۔

آئی جی پولیس نے کہا، ’’آزاد کشمیر پولیس کا فرض آزاد کشمیر کے عوام کی خدمت اور ان کا تحفظ کرنا ہے۔ راشن یا کھانے پینے کا سامان لے جانے والے کسی بھی شہری پرکوئی پابندی ہے نہ کوئی ممانعت اور نہ ہی کسی قسم کی ہراسانی کی جا رہی ہے۔

یہ جھوٹی خبر (فیک نیوز) ادارے کو بدنام کرنے اور بلاوجہ کا خوف پیدا کرنے کی ایک کوشش ہے۔ ہم عوام سے گزارش کرتے ہیں کہ وہ صرف آفیشل ذرائع پر بھروسہ کریں۔۔

ایسے کسی بھی جھوٹے مواد کی اطلاع ہمیں دیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر پولیس شفافیت اور عوامی خدمت کے لیے پرعزم ہے۔

شہری کسی بھی شکایت یا سوال کی صورت میں پولیس ہیلپ لائن 15 یا ترجمان (پی آر او) کے دفتر سے رابطہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے الیکٹرانک میڈیا سے درخواست کی کہ اس وضاحت کو نمایاں طور پر نشر کر کے اس ریکارڈ کو درست کرنے میں مدد کریں تاکہ عوام گمراہ نہ ہوں۔