ایران، امریکہ معاہدہ: پاکستان کی شاندار سفارتکاری،نئی عالمی تاریخ رقم کردی

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری شدید کشیدگی کے خاتمے اور مستقل جنگ بندی کیلئے پاکستان نے عالمی سطح پر ایک اور تاریخی سفارتی بریک تھرو حاصل کر لیا ۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تنازع کے پہلے دن سے ہی دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی اور امن کے قیام کے لیے پسِ پردہ انتہائی متحرک اور سرگرم عمل رہے ہیں۔

پاکستانی قیادت کی ان مخلصانہ کوششوں کے نتیجے میں پہلے ’’اسلام آباد پیس ٹاکس‘‘کی راہ ہموار ہوئی تھی اور اب سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں’’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت ‘‘ پر عملدرآمد کیلئے اعلیٰ سطحی تکنیکی مذاکرات کا پہلا دور کامیابی سے مکمل ہو گیا ۔

وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے جنگ بندی اور خطے کو بڑی تباہی سے بچانے کے لیے پہلے دن سے ہی امریکی اور ایرانی اعلیٰ قیادت کے ساتھ براہِ راست رابطے قائم کیے۔

سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے آغاز سے قبل وزیر اعظم اور فیلڈ مارشل نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، جیرڈ کوشنر، اور ایرانی وفد میں شامل اسپیکر باقر قلیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے انتہائی اہم اور الگ الگ ملاقاتیں کیں۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران اور امریکہ کے درمیان معاہدے کے لیے پاکستان کے ثالثی کردار کا کھلے دل سے اعتراف کیا اور پرجوش انداز میں پاکستان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے مطابق، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت ہونے والے ان مذاکرات میں اگلے 60 دنوں کے اندر حتمی امن معاہدے تک پہنچنے کے روڈ میپ پر اتفاق کر لیا گیا ہے۔

پاکستان کی فعال سفارتی کاوشوں اور تعمیری ثالثی کردار کے نتیجے میں سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکا کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔

سیاسی و عسکری قیادت کا یہ مشترکہ اور کامیاب مشن اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ پاکستان مسلم امہ اور عالمی سطح پر امن و امان کے قیام کے لیے ایک انتہائی معتبر، مضبوط اور ناگزیر ثالث بن کر ابھرا ہے۔

قطر اور پاکستان کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق فریقین نے متعدد اہم امور پر اتفاق رائے حاصل کرتے ہوئے حتمی معاہدے کے لیے 60 روزہ روڈمیپ کی منظوری دے دی ہے جسے خطے میں استحکام اور کشیدگی میں کمی کی جانب ایک مثبت اور اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

اہم پیشرفت کے بعد عالمی سطح پر پاکستان کے سفارتی کردار کو بھرپور سراہا جا رہا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر بھی صارفین پاکستان کی امن کیلئے کی جانے والی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کر رہے ہیں۔

مختلف صارفین نے اسے خطے میں تعمیری مکالمے اور دیرپا استحکام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔اسی سلسلے میں سوشل میڈیا صارفہ شکیلہ لقمان نے لکھا کہ

الحمدللہ پاکستان کی امن سفارتکاری ایک بار پھر کامیاب ہوئی۔ یہ پیش رفت خطے میں امن، استحکام اور تعمیری مکالمے کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔

ایک سوشل میڈیا صارف نے اس پیش رفت پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ تاریخ رقم ہو گئی ہے اور پاکستان کی شاندار سفارتکاری نے دنیا کو حیران کر دیا ۔

ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان 60 روزہ معاہدے کے لیے روڈمیپ طے ہونا ایک بڑا بریک تھرو ہے۔

صارف نے مزید کہا کہ یہ محض ایک سفارتی کامیابی نہیں بلکہ پاکستان کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت، اثر و رسوخ اور خطے میں امن کے لیے اس کے پختہ عزم کا واضح ثبوت ہے۔

مزید یہ بھی پڑھی:20 سالہ کشمیری نژاد فلک راجہ دولتِ مشترکہ (کامن ویلتھ) کی سفیر منتخب

ایڈوکیٹ صاحبہ رانا لکھتی ہیں کہ جب تک شہباز شریف وزیراعظم ہیں پاکستان امریکا کے تعلقات کبھی خراب نہیں ہوں گے اور اسی کو بہترین سفارتکاری کہتے ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹرمپ بڑے بڑے لیڈرز کی عزت نیلام کررہا ہے لیکن پاکستان کے وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کیلئے اس نے بھی ہمیشہ تعریف کی ہے۔

اطہر سلیم نے اپنے ردعمل میں کہا کہ عالمی سفارتکاری کے میدان میں پاکستان نے ایک ایسا ’پاور پلے‘ کیا جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔

ان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیرِاعظم شہباز شریف کی قیادت میں عالمی امن کے لیے کیا گیا یہ اقدام ایک ’ماسٹر اسٹروک‘ ہے جس کا فی الحال کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔

عامر الیاس رانا کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاکستان کے سفارتی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے صحافی کے سوال پر پُرجوش ردعمل دیا۔ ان کے مطابق جے ڈی وینس نے کہا کہ ’ہمیں پاکستان سے محبت ہے‘ اور پاکستان کی جانب سے کیے گئے کردار پر امریکی قیادت نے شکریہ بھی ادا کیا۔

ایک اور صارف نے لکھا کہ ایران امریکا کے مذاکرات بہت ہی مشکل کام ہے، ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ہمت ہے جو بار بار ان کو مطمئین کر کے مذاکرات بحال کروا دیتے ہیں۔

واضح رہے کہ برگن اسٹاک میں ہونے والی اس سفارتی سرگرمی کے نتیجے میں طے پانے والا 14 نکاتی معاہدہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کر کے منظور کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ثالث کی حیثیت سے اس پر دستخط کیے۔

معاہدے کے تحت جنگ کے خاتمے، آبنائے ہرمز کی بحالی، 60 روزہ مذاکراتی ٹائم لائن اور ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق حتمی سمجھوتے کی راہ ہموار کی جائے گی۔

معاہدے میں یہ بھی شامل ہے کہ ایران کے جوہری عزائم سے متعلق حتمی اتفاقِ رائے کے بعد امریکا خطے کے ممالک کے تعاون سے 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں معاونت کرے گا۔

یہ معاہدہ 100 دن سے زائد عرصے پر محیط تنازع کے خاتمے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے اور عالمی برادری نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔