گلگت بلتستان کی سیاست میں نوجوان قیادت کے ایک نئے باب کا آغاز ہوگیا ہے۔ صرف 25 سال کی عمر میں ایڈووکیٹ جینیفر بہادر گلگت بلتستان اسمبلی کی کم عمر ترین رکن منتخب ہوگئیں۔
ضلع غذر کے علاقے ہندر، یاسین میں 2001میں پیدا ہونیوالی جینیفر بہادر کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو طویل عرصے سے عوامی خدمت اور سیاست میں متحرک رہا ہے۔
انہوں نے 2014 سے 2019 تک آغا خان ہائر سیکنڈری اسکول گاہکوچ سے ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم حاصل کی۔ جینیفر نے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کم عمر نوجوانوں کیلئےجو وینائل ڈرائیونگ پرمٹ کی سہولت متعارف
2025 میں گریجویشن مکمل کیا۔ اس وقت وہ اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اور فیملی کورٹس میں بطور وکیل پیشہ ورانہ خدمات انجام دے رہی ہیں۔
تعلیمی میدان میں ایک اور اہم کامیابی کے طور پر انہیں چین کی حکومت کی جانب سے باوقار چائنیز گورنمنٹ اسکالرشپ (CSC) بھی حاصل ہوئی جس کے تحت وہ چین کی معروف ژی آن جیاوٹونگ یونیورسٹی میں ماسٹر آف لاز (ایل ایل ایم کی تعلیم حاصل کریں گی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: الیکشن سرگرمیاں تیز، نامزدگیوں کا سلسلہ جاری، 755 امیدوار سامنے آگئے
جینیفر بہادر کا تعلق ایک سیاسی طور پر متحرک خاندان سے بھی ہے۔ ان کے والد ایڈووکیٹ نیت بہادر سینئر قانون دان ہیں اور اس وقت پاکستان مسلم لیگ (ن) ضلع غذر کے جنرل سیکرٹری کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔
خواتین کی مخصوص نشست پر گلگت بلتستان اسمبلی میں ان کی نامزدگی خطے میں نوجوان قیادت کے ابھرتے ہوئے کردار کی عکاس ہے، جو قانونی مہارت، اعلیٰ تعلیمی قابلیت اور نئے خیالات کے ساتھ عوامی نمائندگی کا سفر شروع کر رہی ہے۔




