پاکستان کی ثالثی کے تحت ایران ، امریکہ تکنیکی سطح کے مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان کی ثالثی اوراسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکا اور ایران میں تکنیکی سطح کے مذاکرات کل سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔

ترجمان پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت تکنیکی سطح کے مذاکرات 21جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں امریکا اور ایران کے نمائندے شریک ہوں گے، پاکستان اور قطر کے ثالثی کردار ادا کرنے والے نمائندے بھی بات چیت میں حصہ لیں گے۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ پاکستان ثالث کی حیثیت سے اس عمل میں سہولت کاری جاری رکھے گا تاکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے پانے والی مفاہمتوں کو آگے بڑھایا جا سکے اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی پیش رفت کو عملی شکل دی جا سکے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر الیکشن:سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس کے اپرنیلم سے کاغذات نامزدگی جمع

ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا وفد کل سوئٹزرلینڈ جائے گا،پاکستانی وفد برگن اسٹاک میں ٹیکنیکل مزاکرات میں شریک ہوگا۔

ذرائع نے بتایا کہ مذاکرات میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت بھی متوقع ہے۔

دوسری جانب ایران،امریکہ مذاکرات کی کامیابی کیلئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے جہاں ایرانی وزیرخارجہ سےملاقات ،ا ہم امورپر تبادلہ خیال کیاگیا۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد فالو اپ کے طور پر تکنیکی سطح کے مذاکرات کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہےکہ پاکستان ثالث کے طور پر مذاکراتی عمل کو سہولت فراہم کرتا رہےگا، پاکستان کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے تحت طے مفاہمت کو آگے بڑھانا ہے، پاکستان امن عمل میں ثالثی کےکردار کو جاری رکھےگا۔

دوسری جانب امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا بھی کہنا ہےکہ ایران سے مذاکرات کل متوقع ہیں، ایران سے مذاکرات کے لیے چیزیں ٹھیک جا رہی ہیں، میرا شاید آئندہ دو روز میں سوئٹزرلینڈ جانا متوقع ہے، وٹکوف اور کُشنر ایران سے مذاکرات کے لیے وہاں موجود ہیں۔

ادھر ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہےکہ ایرانی مذاکراتی ٹیم کچھ دیر میں سوئٹزرلینڈکے لیے روانہ ہوجائےگی، ایرانی وفد مفاہمتی یادداشت کی پیروی اور اس پر عملدرآمد کا مطالبہ کرے گا۔

اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی ذمہ داریوں اور وعدوں پرعمل کیا ہے، امریکا پابند ہےکہ وہ اسرائیل کو لبنان پر حملے بند کرنے پر مجبورکرے۔

انہوں نے کہ اکہ اگلے فریق نے اپنے وعدوں کی پاسداری نہیں کی تو سمجھوتہ خطرے میں پڑجائےگا، اگلےفریق کو جلدازجلد ضروری اقدامات کرنا ہوں گے،