ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے واضح کیا ہے کہ معاہدے کی خلاف ورزی یا غیر ضروری مطالبات کا سخت جواب دیا جائیگا، وعدہ خلافی ہوئی تو ہم بھرپور ردعمل دیں گے۔
باقر قالیباف نے ایکس پر بیان جاری کرتے ہوئےکہاکہ سپریم لیڈر نے ہمیں معاہدے کی شقوں اور شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے کا ٹاسک دیاہے۔
یہ بھی پڑھیں:مشکل وقت میں مخلصانہ حمایت ہمیشہ یاد رکھیں گے،ایرانی صدر، شہبازشریف سے ٹیلیفونک رابطہ
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ اگر فریقِ مخالف کی جانب سے بد نیتی، معاہدے کی خلاف ورزی یا حد سے زیادہ مطالبات سامنے آئے تو ہم دشمن کو سخت اور فیصلہ کن جواب دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں کرینگے۔
باقر قالیباف نے کہا کہ انہیں جنگ کے دوران ایک بار سبق سکھایا جا چکا ہے، اگر وہ دوبارہ اسی راستے پر چلنے کی خواہش رکھتے ہیں تو اس بار انہیں اس سے بھی زیادہ سخت جواب ملے گا۔
قبل ازیں پریس ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو میںایرانی سپیکر باقر قالیباف کا کہنا تھاکہ حالیہ جنگ بندی معاہدہ امریکا کی ناکامی کا ایک واضح دستاویزی ریکارڈ ہےاور ایران اس وقت امریکا کے ساتھ طاقت اور مکمل اعتماد کی پوزیشن میں مذاکرات کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ حالیہ مذاکرات ایران کو میدان جنگ میں ملنے والی کامیابیوں کا نتیجہ ہیں،انہوں نے واضح کیا کہ خطے کی صورتحال بدل چکی ہے اور اب آبنائے ہرمز جنگ سے پہلے والی پوزیشن پر واپس نہیں جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:قومی مفاد اور ذمہ داری کے تحت فیصلہ کیا،ایرانی سپریم لیڈر نے مفاہمتی یادداشت کی توثیق کردی
باقر قالیباف نے اس فیصلے کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال تبدیل ہونے کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ایران بین الاقوامی قوانین یا بحری جہاز رانی کے خلاف کوئی اقدام کرنے جا رہا ہے، بلکہ اب ایران آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض باقاعدہ فیس وصول کرے گا۔




