ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کی توثیق کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اختلاف رائے کے باوجود یہ فیصلہ قومی مفاد اور ذمہ داری کے تحت کیا گیا۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم پیش رفت ہے، جس تک پہنچنے کے لیے مذاکرات کاروں نے مخلصانہ اور وسیع کوششیں کیں۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا ،ایران اسلام آباد مفاہمتی یادداشت، وزیراعظم شہبازشریف نے بطور ثالث توثیق کردی
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی استقامت اور وفاداری قابلِ ستائش ہے اور وہ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے دعاگو ہیں۔
آیت اللہ خامنہ ای کے مطابق اصولی طور پر ان کی ذاتی رائے مختلف تھی، تاہم قومی سلامتی کونسل کے چیئرمین اور ایرانی صدر کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں اور ذمہ داریوں کے بعد انہوں نے معاہدے کی توثیق کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری ایرانی قوم اور مزاحمتی محاذ کے حقوق کے تحفظ کے لیے دی گئی تھی، جسے انہوں نے قومی مفاد میں قبول کیا۔
The full text of the message of Imam Sayyid Mojtaba Khamenei, the Leader of the Islamic Revolution, addressing the Iranian nation regarding the Memorandum of Understanding between the presidents of Iran and America, June 18, 2026 pic.twitter.com/9nSD2NfkVe
— Ayatollah Mojtaba Khamenei (@MKhamenei_ir) June 18, 2026
سپریم لیڈر نے کہا کہ ایرانی حکام نے خیرسگالی اور قومی مفاد کے لیے بھرپور کوششیں کیں اور معاہدے تک پہنچنے کے لیے وسیع اقدامات کیے گئے۔
انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مایوسی کے عالم میں ہر ممکن حربہ استعمال کیا تاہم مذاکراتی عمل جاری رہا۔
یہ بھی پڑھیں:سینئر صحافی طلعت حسین ایران ،امریکہ کشیدگی کم کرنے کیلئے پاکستانی اقدامات سامنے لے آئے
آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ ایران نے پورے مذاکراتی عمل میں قومی مفادات کو مقدم رکھا اور ہر فیصلہ اسی اصول کے تحت کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ہونے والے کسی بھی مذاکرات کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ایران دوسرے فریق کا موقف بلا شرط تسلیم کرے گا۔




