ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے ایک انتہائی اہم اور بڑا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی اور جنگ کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم معاہدہ طے پانے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے، جو ممکنہ طور پر اگلے ایک یا دو روز کے اندر عمل میں آ سکتا ہے۔
عباس عراقچی نے عالمی تجارتی گزرگاہ کے حوالے سے بھی بڑا مؤقف اختیار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب تک آبنائے ہرمز کی خدمات مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں، لیکن آنے والے وقت اور مستقبل میں اس اہم ترین آبی گزرگاہ کے انتظام و انصرام کا طریقۂ کار ماضی کے مقابلے میں بالکل مختلف ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران فاتح ،مفاہمتی یادداشت کے 14نکات ہیں، عباس عراقچی
ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی جانب سے سامنے آنے والا یہ بیان خطے کی موجودہ صورتحال اور عالمی سفارت کاری میں ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ امریکہ کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے متعلق ایک باقاعدہ معاہدہ ہونے کے قریب پہنچ چکا ہے اور اس حوالے سے تمام تر معاملات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ انہوں نے اس بات کی پُرامیڈ پیشگوئی کی کہ یہ اہم ترین سفارتی پیش رفت اور معاہدہ اگلے ایک یا دو دن کے اندر باقاعدہ طور پر سامنے آ سکتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ ممکنہ معاہدے کی خبر دینے کے ساتھ ساتھ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے عالمی سطح پر انتہائی اہمیت کی حامل تجارتی گزرگاہ “آبنائے ہرمز” کے حوالے سے بھی ایران کی مستقبل کی پالیسی کا واضح اعلان کیا۔ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ اب تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں اور عالمی تجارت کے لیے اس کی خدمات بالکل مفت فراہم کی جاتی رہی ہیں اور ایران اس حوالے سے کوئی سخت طریقہ کار اختیار نہیں کرتا تھا۔ تاہم، انہوں نے واضح طور پر خبردار کیا کہ مستقبل میں صورتحال ایسی نہیں رہے گی اور آبنائے ہرمز کے انتظام کا طریقۂ کار اب مکمل طور پر مختلف اور نئے ضوابط کے تحت ہوگا۔




