برطانوی سائنسدانوں نے مٹی سے 24 گھنٹے بجلی پیدا کرنے والا آلہ تیار کر لیا

دنیا بھر میں بجلی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث اس بحران میں کمی کا بظاہر کوئی امکان نظر نہیں آ رہا، جس نے صارفین کو شدید پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایسے مایوس کن حالات میں سائنسی دنیا سے ایک حیران کن اور انقلابی پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے بعد اب آپ اپنے گھر کے باغ یا زمین سے بھی مفت بجلی پیدا کر سکیں گے۔ برطانیہ کے ماہر سائنسدانوں نے ایک ایسا منفرد اور جدید ترین آلہ تیار کر لیا ہے جو زمین کی مٹی کا استعمال کرتے ہوئے چوبیس گھنٹے مسلسل بجلی پیدا کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت رکھتا ہے۔

مٹی سے بجلی بنانے کا یہ ناقابل یقین کارنامہ برطانیہ کی ایک معروف ٹیکنالوجی کمپنی “Bactery” نے انجام دیا ہے، جس نے طویل تحقیق کے بعد یہ آلہ تیار کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے پیش کیا گیا یہ آلہ کسی بھی باغ یا کھیت کی زمین میں قدرتی طور پر موجود خاص قسم کے بیکٹیریا سے توانائی حاصل کرتا ہے اور اسے کارآمد بجلی میں تبدیل کر دیتا ہے۔ سائنسی ماہرین کے مطابق مٹی میں موجود یہ خردبینی جاندار مسلسل ایسے کیمیائی عمل کا حصہ بنتے ہیں جس سے برقی رو پیدا ہوتی ہے، اور یہ آلہ اسی قدرتی عمل کو استعمال میں لا کر بجلی کی مستقل فراہمی کو ممکن بناتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: خصوصی سولر اسکیم: فلیٹوں میں رہنے والوں کے لیے حکومت کا بڑا فیصلہ

آزمائشی مراحل اور ڈاکٹر جیکب کا اہم انکشاف:

کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر جیکب نے اس انقلابی ایجاد کے حوالے سے انتہائی اہم تفصیلات شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت ہم اس منفرد آلے کی باقاعدہ آزمائش برطانیہ کے علاقے “Bath” کے نواح میں واقع اپنے ذاتی باغ میں کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم حقیقی دنیا کے ماحول میں اس بات کا گہرائی سے مشاہدہ کر رہے ہیں کہ یہ آلہ کس طرح زمین کے اندر کام کرتا ہے۔ ڈاکٹر جیکب نے واضح کیا کہ یہ آلہ بنیادی طور پر ایک عام بیٹری کی طرح ہی ڈیزائن کیا گیا ہے، لیکن یہ کسی کیمیکل کے بجائے زمین کی مٹی میں پوشیدہ بیکٹیریا سے پیدا ہونے والی توانائی کو اپنے اندر جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

چوبیس گھنٹے بجلی کی پیداوار اور سولر سسٹم سے موازنہ:

Bactery کمپنی کے مطابق اس آلے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ دھوپ یا موسم کا محتاج نہیں ہے بلکہ یہ دن ہو یا رات، 24 گھنٹے مسلسل بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ کمپنی کے ماہرین اب اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں تاکہ اس ڈیوائس کو دنیا بھر کی ہر قسم کی مٹی اور مختلف ماحولیاتی حالات میں کام کرنے کے قابل بنایا جا سکے۔ ڈاکٹر جیکب نے انتہائی پُرامیڈ انداز میں کہا کہ انہیں پوری توقع ہے کہ یہ ڈیوائس مستقبل قریب میں دیگر ماحول دوست سسٹمز، جیسے کہ سولر سسٹم کی طرح بجلی کے متبادل حصول میں دنیا کے لیے ایک بہت بڑی مددگار ثابت ہوگی۔ کمپنی نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ یہ آلہ کسی بھی روایتی بیٹری پاور ڈیوائس کے مقابلے میں کہیں زیادہ طویل عرصے تک بغیر کسی خرابی کے کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مزید پڑھیں: گوگل پکسل 11 کی نئی ٹیکنالوجی: ایپل اور سام سنگ کو پیچھے چھوڑنے کی تیاری