وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں عوامی ریلیف، مضبوط معیشت ،ترقی کی جانب اہم قدم

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) آج کا بجٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں بلکہ عوام کو ریلیف دینے اور پاکستان کی معیشت کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار ہے۔

آج دنیا بھر میں معاشی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کے باعث کئی ممالک سبسڈیز ختم کر رہے ہیں اور نئے ٹیکس لگا رہے ہیں، لیکن وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کا راستہ اختیار کیا ہے

وفاقی حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر ایسا بجٹ پیش کیا ہے جو معیشت کے ہر اہم شعبے کے لیے اعتماد، استحکام اور ترقی کا پیغام دیتا ہے۔

تنخواہ دار طبقے کیلئے تاریخی ریلیف

اس بجٹ میں سب سے زیادہ ریلیف اس تنخواہ دار طبقے کو دیا گیا ہے جو ہر ماہ ایمانداری سے ٹیکس ادا کرتا ہے اور ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو غیر معمولی ریلیف اور اس کی معاشی مضبوطی کو مدنظر رکھتے ہوئے پہلے سے عائد کردہ 10 فیصد سرچارج بھی مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

جن افراد کی سالانہ تنخواہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 23 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً 65 ہزار روپے فائدہ ہوگا۔

مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی بجٹ : آزادکشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے اضافے کی منظوری

جن افراد کی سالانہ تنخواہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 30 فیصد سے کم کرکے 25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ دو ہزار پانچ سو روپے فائدہ ہوگا۔

جن افراد کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 29 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار روپے فائدہ ہوگا۔

جن افراد کی سالانہ تنخواہ 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان ہے، ان کا ٹیکس 35 فیصد سے کم کرکے 32 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ چھتیس ہزار روپے فائدہ ہوگا۔

جن افراد کی سالانہ تنخواہ 70 لاکھ روپے سے زیادہ ہے، ان کے لیے ٹیکس ریٹ تو برقرار رکھا گیا ہے، لیکن 10 فیصد سرچارج ختم کر دیا گیا ہے، جس سے انہیں تقریباً دو لاکھ ستاون ہزار روپے کا ریلیف ملے گا۔

حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف کیسے دیا؟

پہلے جس شخص کی سالانہ تنخواہ 41 لاکھ روپے تک پہنچتی تھی، وہ براہِ راست 35 فیصد ٹیکس سلیب میں چلا جاتا تھا، جس سے اس پر اچانک زیادہ ٹیکس لگ جاتا تھا۔

اب حکومت نے 41 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کے درمیان دو نئی ٹیکس سلیبس متعارف کرائی ہیں، تاکہ اس طبقے پر یکدم 35 فیصد ٹیکس نہ لگے بلکہ کم شرح پر ٹیکس ادا کرنا پڑے

اب اس آمدن کے حصے پر 29 فیصد اور 32 فیصد کے نئے ٹیکس ریٹس لاگو ہوں گے، جس سے مڈل کلاس اور اپر مڈل کلاس کو نمایاں ریلیف ملے گا۔

35 فیصد ٹیکس اب صرف اس آمدن کے حصے پر لاگو ہوگا جو 70 لاکھ روپے سالانہ سے اوپر ہو، جبکہ اس سے کم آمدن پر پہلے والی کم شرحیں ہی لاگو رہیں گی۔

سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے خوشخبری

حکومت نے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے تاکہ انہیں بھی مہنگائی کے دور میں ریلیف مل سکے

برآمدات اور صنعت کے لیے بڑا ریلیف

برآمدات پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہیں، اسی لیے ایکسپورٹرز کے لیے ایڈوانس اور منیمم ٹیکس، جو پہلے مجموعی طور پر 2 فیصد تھا، کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

ملین روپے تک کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز پر سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے۔

ملین روپے سے زیادہ کاروبار کرنے والے ایکسپورٹرز کے لیے سپر ٹیکس 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کر دیا گیا ہے، تاکہ صنعت اور برآمدات کو مزید فروغ ملے۔

پراپرٹی سیکٹر کیلئے بڑا ریلیف

حکومت نے سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے پراپرٹی کی خرید و فروخت پر عائد مختلف ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی ہے۔

5 کروڑ روپے تک کی پراپرٹی کی فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

5 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کی پراپرٹی کی فروخت پر بھی ٹیکس 5 فیصد سے کم کرکے 2.75 فیصد کر دیا گیا ہے۔

حکومت نے پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس میں نمایاں کمی کر کے سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

50 ملین (5 کروڑ) روپے تک مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

50 ملین سے 100 ملین (5 سے 10 کروڑ) روپے مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس 2 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے۔

100 ملین (10 کروڑ) روپے سے زائد مالیت کی پراپرٹی کی خریداری پر بھی ٹیکس 1.5 فیصد سے کم کرکے 1.25 فیصد کر دیا گیا ہے، جس سے تمام بڑی کیٹیگریز میں سرمایہ کاروں کو یکساں ریلیف ملے گا۔

اوورسیز پاکستانیوں کیلئے اہم ریلیف

حکومت نے اوورسیز پاکستانیوں کا دیرینہ مطالبہ پورا کرتے ہوئے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی پراپرٹی پر عائد 1 فیصد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) کو مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔

یہ اقدام اوورسیز پاکستانیوں کی حوصلہ افزائی، ان کی سرمایہ کاری میں اضافے اور وطن کے ساتھ ان کے معاشی تعلق کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے

شپنگ انڈسٹری کیلئے بڑا ریلیف

حکومت نے شپنگ انڈسٹری کو فروغ دینے کے لیے اس شعبے پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ لاجسٹکس اور میری ٹائم سیکٹر کی ترقی، کاروباری لاگت میں کمی اور پاکستان کی تجارتی سرگرمیوں کو مزید مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا

خواتین اور عوامی صحت کیلئے اہم اقدام

حکومت نے خواتین کیلئے ٹیمپونز، سینیٹری پیڈز پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا ہے۔

اسی طرح حکومت نے کنڈومز اور مانع حمل (contraceptive) ادویات پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس کو مکمل ختم کر دیا ہے۔

یہ فیصلہ خواتین و مردوں کی ضروریات، عوامی صحت اور معاشی ریلیف تینوں پہلوؤں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔

آئی ٹی سیکٹر کیلئے اہم ریلیف

حکومت نے آئی ٹی اور فری لانسنگ سیکٹر کے لیے خوش آئند فیصلہ کرتے ہوئے انکم ٹیکس کی موجودہ 0.25 فیصد رعایتی شرح کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے اس شعبے کو پالیسی کا تسلسل اور اعتماد حاصل ہوگا۔

یہ اقدام آئی ٹی برآمدات، ڈیجیٹل معیشت اور نوجوان فری لانسرز کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ٹیکنالوجی سیکٹر کی مزید ترقی میں معاون ثابت ہوگا۔

ڈیجیٹل اور آن لائن ادائیگیوں کیلئے بڑا ریلیف

حکومت نے پاکستان سے کریڈٹ کارڈ اور ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے کی جانے والی آن لائن ادائیگیوں پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس (WHT) کی شرح 5 فیصد سے کم کرکے صرف 0.5 فیصد کر دی ہے۔

یہ فیصلہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کو فروغ دینے، صارفین پر مالی بوجھ کم کرنے اور پاکستان میں کیش لیس اور ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم ہے

ریفائننگ سیکٹرکیلئے بڑا ریلیف

حکومت نے براؤن فیلڈ ریفائنریز کی اپگریڈیشن اور متعلقہ درآمدات (Imports) پر عائد 18 فیصد سیلز ٹیکس مکمل طور پر ختم کرتے ہوئے اسے 0 فیصد کر دیا ہے۔

اس اقدام سے ریفائننگ سیکٹر میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور ملک کے توانائی کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے میں مدد ملے گی۔

مجموعی طور پر یہ بجٹ صرف آج کے لیے نہیں بلکہ ایک مضبوط، خود انحصار اور خوشحال پاکستان کی بنیاد رکھنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

وزیراعظم محمد شہباز شریف اور ان کی معاشی ٹیم نے مشکل عالمی حالات میں ایسے فیصلے کیے ہیں جن سے تنخواہ دار طبقہ، سرکاری ملازمین، برآمد کنندگان، سرمایہ کار اور عام شہری سب فائدہ اٹھائیں گے۔

یہ بجٹ پاکستان کو معاشی استحکام، سرمایہ کاری، خود انحصاری اور عوامی خوشحالی کی جانب ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔