پولنگ اسٹیشنوں پرقبضہ کیاتوخاموش نہیں بیٹھیں گے،بلاول کااعلان

مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں جو ہو رہا ہے اسے جمہوریت کا نام نہیں دیا جا سکتا۔

یونان کے مشور دانشور تاسیتوس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ظلم، زیادتی اور قتل و غارت کو امن کا جھوٹا نام دے کر پھیلایا جا رہا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:الیکشن نتائج پر تحفظات،فوج کی نگرانی میں دوبارہ پولنگ کرائی جائے،فیصل ممتاز راٹھور

چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میرپور میں پیپلز پارٹی کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین دو سیٹوں پر لڑ رہے تھے اور انہیں معلوم تھا کہ پیپلز پارٹی دو کی دو نشستیں جیت جائے گی اس لیے پچھلے الیکشن کی طرح اس بار بھی ووٹ چوری کرنے کی کوشش کی گئی۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری یاسین کی 30 یونین کونسلوں پر مخالفین نے قبضہ کیا اور کئی پولنگ اسٹیشنوں سے پولیس غائب تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بتایا گیا تھا کہ مرحلہ وار الیکشن اس لئے کروائے جا رہے ہیں تاکہ سکیورٹی کا مناسب انتظام ہو سکے

بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا کہ مرحلہ وار الیکشن کروانے کے باوجود پولنگ اسٹیشنوں پر دھاندلی کی گئی۔ ان کے پاس ویڈیو ثبوت بھی موجود ہیں۔ میرپور کے ووٹ پر ڈاکہ مارا گیا اور چوہدری یاسین کے ووٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا۔

انہوں نے میرپور کے عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود عوام نے پاکستان پیپلز پارٹی کو اکثریت دی ہے۔

بلاول بھٹونے ملک ظفر ، قاسم ندیم، یاسر سلطان اور چوہدری یاسین کی کامیابی پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ عوام نے چوہدری یاسین کو دونوں نشستوں پر کامیابی دلوائی ۔

چیئرمین پی پی پی نے نکیال میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جیالے کارکن مختار یونس کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بندوقیں چلا کر خوف و ہراس کا ماحول بنانے کی کوشش کی گئی لیکن یہ کوش ناکام ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کا بچہ جانتا ہے کہ کوٹلی میں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے اور جو ووٹ چوری کیا گیا ہے اسے واپس لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ریاست پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ اس کے لیے قومی مفاد زیادہ اہم ہے یا نون لیگ کا مفاد۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے بجائے جماعتی مفاد کو ترجیح دینے سے نقصان ملک کی عوام کو ہو رہا ہے۔ ہم خاموش ہو کر یہ تماشا نہیں دیکھ سکتے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم ایکشن کمیٹی کا متنازعہ بیان: سردارابراہیم اور سردارعبدالقیوم کو غدار قرار دیدیا

انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کے ساتھ ہیں اور قومی مفاد میں حکومت پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ آزاد کشمیر کو مقبوضہ کشمیر نہیں بننے دیں گے۔

اگر ریاست سنجیدہ ہوتی تو آزاد کشمیر میں پہلے آزادانہ اور منصفانہ الیکشن کروائے جاتے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ صدر آزاد کشمیر کا الیکشن آئین کے مطابق اس لئے نہیں کروایا گیا کیونکہ پیپلز پارٹی الیکشن جیت جاتی۔ چیئرمین پی پی پی نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کے مطالبات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔

انہوں نے وفاق اور احتجاج کرنے والوں دونوں سے کہا کہ ان کے پاس ایک راستہ ہے جس سے حالات بہتر ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے تجویز دی کہ فوری طور پر سچ اور مفاہمت کمیشن (Truth & Reconciliation ) قائم کیا جائے۔ جب تک کمیشن اپنا کام مکمل نہ کرے حکومت کوئی کارروائی نہ کرے۔ اس طرح احتجاج بھی ختم ہوگا اور کشمیریوں کی زندگی بھی معمول پر آئے گی۔

انہوں نے کہا کہ وہ ان خاندانوں کا درد جانتے ہیں جن کے بچے سیاست کے نام پر باہر نکلے اور واپس نہ آ سکے۔ ریاست کو چاہیے کہ وہ اپنے عوام کو اس طرح نہ چھوڑیں۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کے کارکنوں کے ساتھ بھی کھیل کھیلا گیا ہے ، بانی پی ٹی ائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ میں پہلی بار کسی سیاسی سربراہ کو اپنی پارٹی کے کارکنوں سے اس طرح کا بدترین دھوکہ ملا ۔

انہوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنان سے کہا کہ وہ دگنی محنت کریں کیونکہ مخالفین دباؤ، خوف اور مایوسی پھیلا کر زبردستی حکومت بنانا چاہتے ہیں۔

انہوں نے 30 جولائی کو مظفرآباد میں پاکستان پیپلز پارٹی کے جلسے کا اعلان کیا اور کہا کہ اس جلسے میں صرف آزاد کشمیر کے رہائشی شریک ہوں گے۔ جلسے کا پیغام یہ ہوگا کہ کشمیر پر ڈاکہ نا منظور۔

انہوں نے کہا کہ 2 اگست کو ہونے والے انتخابات میں کسی کو ووٹ چوری نہیں کرنے دیں گے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کارکنوں کو شہید کیا گیا اور پولنگ اسٹیشنوں پر قبضہ کیا گیا تو پیپلز پارٹی پرامن رہنے پر مجبور نہیں رہے گی۔

خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ صدر آصف علی زرداری کے فرزند اور شہید میر مرتضیٰ بھٹو و شہید میر شاہنواز بھٹو کے بھانجے ہونے کے ناطے سیاست کے تقاضوں سے بخوبی آگاہ ہیں۔

تاہم ان کی خواہش ہے کہ وہ شہید محترمہ بینظیر بھٹو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے جمہوری سیاست کریں، نہ کہ حالات انہیں اور ان کی پارٹی کو احتجاج کی راہ پر لے جائیں۔

آخر میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ انشاءاللہ 30 جولائی کو مظفرآباد میں جلسے کے بعد 2 اگست کو پیپلز پارٹی کی جیت کا جشن ہوگا۔