راولاکوٹ میں کالعدم ایکشن کمیٹی کے دھرنے پر امن طریقے اور مزید جانی نقصان کے بغیر سے ختم کر دئیے گئےہیں، سینئر صحافیوں خواجہ کاشف میر اور ریاض شاہد نےکشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی ہے۔
راولاکوٹ میں رات گئے کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن نے اپنے دونوں دھرنے جودریک اور گوئی نالہ روڈ پر جاری تھے اچانک خود ہی ختم کردیئے ہیں جس کی تصدیق راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی ریاض شاہد نے کی ہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ حکمت عملی کے تحت کارکن آگے پیچھے ہوئے ہیں تو انکا کہنا تھا کہ دھرنے فی الحال ختم ہوچکے ہیں باقی حکمت عملی کا ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔
راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی خواجہ کاشف میر کے مطابق مقامی شہریوں نے بھی دونوں مقامات سے تصدیق کی ہے کہ عیدگاہ دریک اور متیالمرہ اب مکمل خالی ہیں اور تمام مظاہرین جا چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کا پرتشدد احتجاج ؛ شریک افراد کی نگرانی، فہرستیں مرتب کی جانے لگیں
یاد رہے کہ میرپور، ڈڈیال، کوٹلی، بھمبر اور پلندری سے مظفرآباد کیلئے نکلنے والے قافلے رات کو راولاکوٹ شہر سے پہلے ہی رک گئے تھے جہاں عمر نذیر کشمیری اور دیگر نے خطاب کیا تھا اور سینئر صحافی ریاض شاہد نے ہی یہ خبر دی تھی کہ لانگ مارچ راولاکوٹ شہر میں داخل نہیں ہوگا فی الحال یہاں پڑائو ڈالا جائیگا۔
گزشتہ رات سے دو الک مقام پر دھرنے دیئے گئے تھے جو آج رات کو بغیر کسی اعلان کے ختم کردیئے گئے اور ذرائع کے مطابق لوگ وہاں سے روانہ ہوچکے ہیں ،دھرنوں کے پرامن اختتام کوبڑی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ سکیورٹی خدشات اور فورسز کی جانب سے ممکنہ آپریشن کے پیش نظر شرکاء کو مختلف مقامات پہ پھیل جانے کی ہدایت کی گئی جس کے وجہ سے گراؤنڈ خالی ہو گیاہے، عوام مختلف ایریا میں پھیل گئے ہیں اور ریسٹ کر رہے ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کا دعویٰ ہے کہ مارچ ختم نہیں ہوا بلکہ حکمت عملی سے لوگوں کو کسی بھی خطرے یا تشدد سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے صبح اگلے لائحہ عمل کا اعلان اسی گراؤنڈ میں کیا جائی گا احباب پروپیگنڈوں پہ دھیان نہ دیں۔ہم پوری طاقت سے لڑیں گے فتح سچ کی ہوگی عوام کی ہو گی۔




