امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے فیلڈمارشل بہترین جنرل ہیں، ایران سے معاہدہ تقریباً طے پانے کے قریب ہے اور پاکستان نے معاہدہ میں بہترین کردار ادا کیا ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا نے دعویٰ کیا کہ مجھے یقین ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر بھی معاہدہ کی منظوری دے چکے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:پاکستا ن نےٹرمپ کو ایران پر حملے بند کرنے پر راضی کیا،امریکی تجزیہ کار
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ جاری سفارتی کوششیں جلد کسی مثبت نتیجے تک پہنچ سکتی ہیں اور خطے میں استحکام کے لیے راہ ہموار ہوگی۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ معاہدہ پر دستخط ہوتے ہی امریکا ایرانی بندرگاہوں پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کر دے گا جس سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئے گی۔
انھوں نے مزید کہا کہ معاہدے پر دستخط کی تقریب یورپ میں منعقد ہوگی جس میں امریکا کی نمائندگی نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ میں شرکت نہیں کرپاؤں گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے سے قبل اعلان کیا تھا کہ ایران پر آج رات کیے جانے والے طے شدہ فضائی حملے اور بمباری کو منسوخ کر دیا گیا ہے یہ فیصلہ ایران کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ مذاکرات کو بامعنی سطح پر آگے بڑھانے اور تمام فریقین کی جانب سے حتمی نکات کی منظوری کے بعد کیا گیا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کو اس کی اعلیٰ ترین قیادت کی سطح تک لے جایا گیا، جہاں معاہدے کے بنیادی اور تفصیلی نکات پر اتفاق رائے حاصل ہوا۔ انہوں نے کہا کہ اس پیش رفت کے بعد فوری فوجی کارروائی کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ اس مجوزہ معاہدے کے نکات کو امریکہ، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیہ، پاکستان، بحرین، کویت، اردن، مصر اور دیگر متعلقہ فریقین نے منظور کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا یوٹرن ،ایران کو دھمکیوں کے بعد طے شدہ حملے روک دئیے
امریکی صدر کے مطابق بحری ناکہ بندی فی الحال برقرار رہے گی اور اسے اس وقت تک نافذ رکھا جائے گا جب تک معاہدہ مکمل طور پر حتمی شکل اختیار نہیں کر لیتا۔ ان کے بیان میں کہا گیا ہے کہ معاہدے پر دستخط کا وقت اور مقام جلد اعلان کیا جائے گا۔
اس پیش رفت کو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے اور ایک بڑے فوجی تصادم کے امکان میں کمی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تاہم تاحال ایران یا دیگر متعلقہ ممالک کی جانب سے اس اعلان پر باضابطہ تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا۔




