پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق کا جموں و کشمیر ایکشن کمیٹی کے نام اہم پیغام سامنے آ گیا ہے۔ انہوں نے ایکشن کمیٹی سے اپیل کی ہے کہ لانگ مارچ ملتوی کرے اور انتخابی عمل میں رخنہ نہ ڈالے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو مل رہا ہے وہ حاصل کریں، جو نہیں مل رہا اس کے لیے تدبر کے ساتھ پرامن اور سیاسی حکمت عملی اختیار کریں۔
خواجہ سعد رفیق نے زور دے کر کہا ہے کہ ایکشن کمیٹی اراکین کو واپسی کا محفوظ راستہ ملنا چاہیے اور ریاست کی رٹ قائم ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سارے مطالبات کبھی نہیں مانے جاتے، جدوجہد جاری رہتی ہے۔ لانگ مارچ کے نتیجے میں مظاہرین اور لا انفورسمنٹ اداروں کے مابین تصادم کا خطرہ ہے، جبکہ ملکی حالات کسی جانی نقصان کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ ان کے مطابق مظاہرین اور سیکیورٹی اداروں کے ہر فرد کی جان نہایت قیمتی ہے۔
آئینی مدت اور فورم کا مسئلہ:
خواجہ سعد رفیق نے اپنے بیان میں کہا کہ آپ کے بہت سے مطالبات کا تعلق AJK حکومت سے ہے، قانون ساز اسمبلی کی مدت پوری ہو چکی، نئی حکومت نہیں بنے گی تو مسائل کا حل کس فورم پر ہو گا؟ انہوں نے حکومت کو تجویز دی کہ ریاست سنجیدگی اور شفقت کے ساتھ JAAC سے نتیجہ خیز مذاکرات کرے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی کی سرگرمیاں کشمیر کاز کو نقصان پہنچا رہی ہیں : عطاء تارڑ
معتدل عناصر سے حل اور مطالبات پر موقف:
ان کا کہنا تھا کہ بعض انتہا پسند عناصر کی موجودگی کے باوجود وہاں معتدل لوگ بھی موجود ہیں، کوئی حل نکلنا چاہیے۔ قابل قبول مطالبات تسلیم کیے جائیں، جبکہ ناقابل عمل مطالبات کے بارے میں واضح موقف اپنایا جائے۔
بلواسطہ مذاکرات کی صورتحال:
خواجہ سعد رفیق نے مزید کہا کہ ہماری اطلاع کے مطابق بلواسطہ بات چیت کافی قریب آ چکی تھی، نجانے کیوں پھر معاملہ رک گیا!




