ٹرمپ

ٹرمپ کا یوٹرن ،ایران کو دھمکیوں کے بعد طے شدہ حملے روک دئیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے روک دئیے گئے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت اعلیٰ ترین سطح تک پہنچ چکی ہے اور اس کی منظوری بھی دی جا چکی ہے، جس کے بعد انہوں نے بطور صدر حملے روکنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ نے مایوس ہو کر ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دیا ، امریکی ویب سائٹ

انہوں نے کہا کہ معاہدے کے نکات اور تفصیلات پر تمام فریقین، جن میں امریکا، اسرائیل، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، ترکیے، پاکستان، بحرین، کویت، اردن اور مصر سمیت دیگر ممالک شامل ہیں، اصولی اور تفصیلی سطح پر متفق ہوچکے ہیں۔

امریکی صدر کے مطابق حتمی معاہدے پر دستخط تک بحری ناکہ بندی مکمل طور پر برقرار رہے گی جبکہ معاہدے پر دستخط کے وقت اور مقام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔

اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ امریکا آج رات ایران پر بہت سخت حملہ کرے گا اور جلد ہی ایران کے تیل و گیس کے بنیادی ڈھانچے پر کنٹرول حاصل کر لیا جائے گا۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نیوی، ائیر فورس، ریڈار اور ہر طرح کا دفاع ختم ہوچکا ہے اور ہم آج رات ایران کو بہت شدید حملوں کا نشانہ بنائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا تھا کہ مستقبل قریب میں امریکا ایران کے خارگ جزیرے سمیت دیگر تیل کے اہم مراکز پر قبضہ کرلے گا اور ایران کی آئل اور گیس مارکیٹس پر مکمل کنٹرول حاصل کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں:ایران پر آج رات سخت حملہ کریں گے، پھر دیکھتے ہیں معاہدہ کیسے نہیں ہوتا،ٹرمپ کا اعلان

ٹرمپ نے اپنے بیان میں وینزویلا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا میں بھی ایسا کرچکا ہے اور اس کا نتیجہ امریکا اور وینزویلا دونوں کے لیے بہت اچھا رہاہے۔