امریکی تجزیہ کارماریو نوفل نے دعویٰ کیا ہےکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے منسوخ کرنے سے ٹھیک پہلے مبینہ طور پر پاکستانی قیادت سے فون پر بات کی جو تہران کے ساتھ ثالثی کر رہے ہیں۔
ماریو نوفل کے مطابق پاکستانی قیادت نے امریکی صدر سےکہا کہ ہمارے پاس معاہدہ ہے، جس کا مطلب ہے ٹرمپ نے صرف فتح کا اعلان نہیں کیا۔ انہیں براہ راست یقین دہانی مل گئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا یوٹرن ،ایران کو دھمکیوں کے بعد طے شدہ حملے روک دئیے
امریکی تجزیہ کارکا کہنا ہے کہ آیا یہ ’’ڈیل‘‘ حقیقت میں موجود ہے یا ایرانی تاخیری حربے اب بھی ہوں گے اصل سوال ہے۔یہ ساری چیز بیک چینل وعدوں اور امیدوں کے ساتھ مل کر رکھی جا رہی ہے۔
🇺🇸🇮🇷🇵🇰 Right before Trump cancelled strikes on Iran, he reportedly got on the phone with the Pakistanis, who are mediating with Tehran.
The Pakistanis told him straight up: “We have a deal.”
Which means, Trump didn’t just wake up and declare victory. He got a direct assurance… https://t.co/IoGEO2LjFi pic.twitter.com/1yDoy12ENO
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) June 11, 2026
ماریو نوفل کے مطابق مذاکراتی ٹیم کے قریبی ایک ایرانی ذرائع نے بظاہر اس بات کی تردید کی ہے کہ امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی کسی بھی یادداشت کی منظوری دی گئی ہے۔
یہ براہ راست ٹرمپ کی سچائی سے متصادم ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے اعلیٰ سطح پر ایک متن پر اتفاق کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے مایوس ہو کر ایران پر دوبارہ حملوں کا حکم دیا ، امریکی ویب سائٹ
دوسری طرف پاکستان کے مشہور صحافی مشرف زیدی نے بھی ٹویٹ کی ہے کہ پاکستان نے ٹرمپ کو ایران پر حملے بند کرنے پر راضی کیا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کے فیلڈمارشل بہترین جنرل ہیں، ایران سے معاہدہ تقریباً طے پانے کے قریب ہے اور پاکستان نے معاہدہ میں بہترین کردار ادا کیا ہے۔




