مظفرآباد(کشمیر ڈیجیٹل)کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ سردار امان کی ساتھیوں کے ہمراہ ممنوعہ اسلحہ کے تصویر سامنے آگئی۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے مسلح جتھوں کی تصاویر پہلے بھی منظرِ عام پر آ چکی ہیں، جو حالیہ واقعات کے پسِ پردہ منظم منصوبہ بندی کے تاثر کو مزید تقویت دیتی ہیں۔
کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کاعوامی حقوق کامطالبہ محض ایک دکھاوا ہے جبکہ ان کا اصل مقصد شروع سےہی اشتعال انگیزی اور عدم استحکام فروغ تھا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی فائرنگ، غنڈہ گردی،متعددسکیورٹی اہلکارشدید زخمی
ذرائع کے مطابق ابتدا ءسے ہی کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے سرغنہ شوکت میر، سردارامان اور دیگر نے اشتعال انگیز بیانات کے ذریعے عوام کو تشدد پراُکسایا۔
کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے ان اشتعال انگیز بیانات اور پیشگی منصوبہ بندی کے تحت راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کےمسلح جتھوں نے پرتشدد حملےکئے۔
ماہرین کےمطابق یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ بھارتی پشت پناہی پر ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت عدم استحکام پھیلانے کی منظم کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ اور دیگر شہروں میں پرتشدد واقعات اورسرغنہ کی منظرعام پر آنے والی تصویر واضح کرتی ہے کہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا مقصد بدامنی اور تشدد کو فروغ دینا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وائس چیئرمین فرینڈز آف کشمیر عبدالحمید لون کا آزادکشمیر کی صورتحال پر برطانوی پارلیمنٹرینز کو خط ارسال
ممنوعہ ہتھیاروں کے ساتھ تصویر واضح کرتی ہیں کہ پرتشدد واقعات اچانک رونما نہیں ہوئےبلکہ ایک جامع اورمنظم منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے تحت کیے گئے۔
ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور بدامنی پھیلانے میں ملوث تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق سخت اور بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔




