ٹماٹر کی قیمتیں آسمان پر، شہری شدید پریشان

اگر آپ آج سبزی خریدنے نکلے ہیں تو پہلے اپنی جیب ضرور دیکھ لیں کیونکہ روزمرہ کھانوں کا لازمی حصہ سمجھے جانے والے ٹماٹر کی قیمت نے اچانک ایسی چھلانگ لگائی ہے کہ شہری حیران رہ گئے ہیں۔ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور ملک کے معاشی حب کراچی سمیت لاہور میں بھی ٹماٹر کے دام سن کر شہریوں کے ہوش اڑ گئے ہیں۔ ہفتہ بھر مہنگا پیٹرول خریدنے کے بعد جب شہری اتوار کو سبزی منڈیوں اور بازاروں میں پہنچے تو ہر کھانے کا لازمی جزو سمجھا جانے والا ٹماٹر پہنچ سے باہر دکھائی دیا۔

اسلام آباد میں کئی مقامات پر معیاری ٹماٹر 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے، جبکہ خریداروں کا کہنا ہے کہ اب عام گھر کے لیے ٹماٹر خریدنا بھی ایک مشکل فیصلہ بن گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں اتوار کے روز سبزی منڈیوں اور بازاروں کا رخ کرنے والے شہریوں کو مہنگائی کا ایک اور جھٹکا برداشت کرنا پڑا جہاں مارکیٹ میں ٹماٹر 277 روپے سے 400 روپے فی کلو تک فروخت ہو رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ 277 روپے والا ٹماٹر کچھ جگہوں پر دستیاب ہے، لیکن اس کا معیار تسلی بخش نہیں، دوسری جانب بہتر اور تازہ ٹماٹر خریدنے کے لیے 400 روپے فی کلو تک ادا کرنا پڑ رہے ہیں، جو متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے بجٹ پر اضافی بوجھ بن رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: راولپنڈی میں ٹماٹر کی قیمت میں ہوشربا اضافہ، 500 روپے فی کلو تک پہنچ گیا

کراچی اور لاہور میں ٹماٹر کی صورتحال:

اسی طرح لاہور میں ٹماٹر کی سرکاری قیمت 300 روپے فی کلو مقرر ہے، مگر اوپن مارکیٹ میں اسے 500 روپے فی کلو تک فروخت کیا جا رہا ہے۔ ادھر کراچی میں ٹماٹر کی قیمتیں مزید بڑھ کر 450 سے 500 روپے فی کلو (110 سے 125 روپے فی پاؤ) تک پہنچ گئی ہیں، اس وقت متعدد تاجر ایرانی اور کوئٹہ کے ٹماٹر ان ہی منہ مانگے داموں بیچنے پر مجبور ہیں۔

ٹماٹر مہنگا ہونے کی وجوہات اور شہریوں کا ردعمل:

دکانداروں اور تاجروں کے مطابق بارڈر کی بندش اور مقامی پیداوار میں کمی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں، ان کا کہنا ہے کہ جب سپلائی کم ہوتی ہے تو قیمتیں خود بخود بڑھ جاتی ہیں۔ تاہم خریدار اس وضاحت سے مطمئن نظر نہیں آتے اور شدید پریشانی کا شکار شہریوں کا کہنا ہے کہ وجہ خواہ کوئی بھی ہو، مہنگائی اور ہر بحران کا اصل بوجھ ہمیشہ غریب اور عام عوام کی کمر پر ہی پڑتا ہے۔

گھریلو بجٹ پر براہِ راست اثر اور ماہرین کی رائے:

ٹماٹر تقریباً ہر گھر میں روزانہ استعمال ہونے والی سبزی ہے، اسی لیے اس کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ براہِ راست گھریلو اخراجات کو متاثر کرتا ہے۔ بہت سے شہریوں کا کہنا ہے کہ اب سالن، سلاد اور دیگر روزمرہ کھانوں کی تیاری بھی پہلے سے کہیں زیادہ مہنگی ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سپلائی بہتر نہ ہوئی اور مقامی پیداوار میں اضافہ نہ آیا تو آنے والے دنوں میں سبزیوں کی قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ اس صورتحال میں صارفین کو ریلیف دینے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی کا دباؤ کسی حد تک کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں: ایک ہفتے میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بھاری اضافہ، عوام پر مہنگائی کا بوجھ