اسلام آباد(کشمیر ڈیجیتل) پیپلزپارٹی نے وفاقی بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہ و پنشن میں50 فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا ۔؎
جبکہ ماہانہ اجرت بڑھا کر 60,000 روپے کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کے دو بڑے اور اہم ترین مطالبات سامنے آگئے۔
پی پی پی ذرائع نے بتایا کہ پارٹی نے غریب اور ملازمت پیشہ طبقے کو ریلیف دینے کے لیے بجٹ تجاویز حکومت کے سامنے رکھی ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:گرمی کی شدت:ملک میں 11 جون سے بارشوں کا نیاسپیل داخل
پیپلزپارٹی قیادت نے ملک میں جاری معاشی صورتحال اور مہنگائی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے
پارٹی کا موقف ہے کہ مہنگائی کی موجودہ شرح کے تناسب سے یہ اضافہ ناگزیر ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ پیپلز پارٹی نے غریب مزدور طبقے کیلئے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت بڑھا کر 60,000 روپے کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پارٹی بجٹ میں کسی بھی قسم کے نئے ٹیکسز اور پٹرولیم لیوی بڑھانے کے اقدامات کے سخت خلاف ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آزادکشمیر: کشیدگی خاتمے کیلئے کوآرڈینیشن کونسل قائم،حکومت سے پرامن رہنے کی اپیل
پیپلز پارٹی کا کہنا ہے کہ حکومت پہلے ہی عوام سے ضرورت سے زیادہ ٹیکسز اور لیوی وصول کر رہی ہے، اب عوام پر مزید بوجھ ڈالنا ظلم ہوگا۔
پی پی پی نے حکومت کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غریب عوام پر نئے ٹیکسز لادنے کے بجائے ملکی آمدن بڑھانے کے لیے دیگر نئے اور غیر روایتی راستے تلاش کرے۔
ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ حکومت تنخواہ پنشن بارے پی پی کے مطالبات ماننے سے انکاری ہے ،جس کے بعد سیاسی و معاشی بے یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔



