ڈھل چیک پوسٹ واقعہ: تمام اہلکار بازیاب؛ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کے خلاف گھیرا تنگ

پلندری کے قریب ڈھل چیک پوسٹ پر گزشتہ شب کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند عناصر کی جانب سے یرغمال بنائے گئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تمام اہلکار آج علی الصبح بحفاظت بازیاب کروا لیے گئے۔ اہلکار خیریت کے ساتھ اپنے گھروں کو پہنچ چکے ہیں جبکہ واقعے میں ملوث عناصر کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل جاری ہے۔

حکام کے مطابق ریاستی عملداری کو چیلنج کرنے، سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنانے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے جیسے سنگین جرائم میں ملوث شرپسند عناصر کو قانون کے مطابق انجام تک پہنچایا جائے گا۔ واضح کیا گیا ہے کہ ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

یاد رہے کہ گزشتہ رات پلندری کے قریب ڈھل چیک پوسٹ پر تعینات پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے چند اہلکاروں کو کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح غنڈوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ عینی شاہدین کے مطابق قریبی آبادی اور ممکنہ جانی نقصان کے خدشے کے پیشِ نظر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے انتہائی تحمل اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے فوری جوابی کارروائی سے گریز کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پلندری ، عوامی ایکشن کمیٹی کا پولیس چوکی پر حملہ، متعدد اہلکار یرغمال بنا لئے

اس دوران ڈپٹی کمشنر پلندری اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر حکام یرغمالیوں کی محفوظ بازیابی کے لیے مسلسل متحرک رہے۔ انتظامیہ کی بروقت حکمت عملی، مؤثر رابطوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی پیشہ ورانہ کاوشوں کے نتیجے میں اہلکاروں کو بحفاظت آزاد کروا لیا گیا۔

سرکاری اہلکاروں کو یرغمال بنانا، ریاستی اداروں کو دھمکانے کی کوشش کرنا اور مسلح طاقت کے ذریعے دباؤ ڈالنا اس گروہ کے پرتشدد عزائم اور مجرمانہ طرزِ عمل کا واضح ثبوت ہے۔ حکام نے دوٹوک مؤقف اختیار کیا ہے کہ واقعے میں ملوث تمام شرپسند عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور ریاست کے خلاف کسی بھی مذموم کوشش کو ناکام بنایا جائے گا۔

مزید پڑھیں: آزاد کشمیر میں مجموعی صورتحال پرامن،عوام نے کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاجی کال مسترد کردی