چیف الیکشن کمشنر گلگت بلتستان کی خصوصی ہدایت پر الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر موبائل فون لے جانے اور کسی بھی قسم کی تصاویر یا ویڈیوز ریکارڈ کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق اس اہم پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق گلگت بلتستان میں جاری انتخابی عمل کے دوران الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ سخت احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ ان احکامات کے تحت پولنگ اسٹیشنز کے اندر انتخابی عملہ، امیدوار، پولنگ ایجنٹس اور عام ووٹرز میں سے کوئی بھی شخص اپنے ہمراہ موبائل فون یا ویڈیو ریکارڈ کرنے والا کوئی دوسرا آلہ ساتھ نہیں لے جا سکے گا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ اہم اقدام ووٹ کی رازداری کے مکمل تحفظ اور انتخابی عمل کی شفافیت کو ہر صورت یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: گلگت بلتستان الیکشن کی تیاریاں مکمل، 24 حلقوں میں 396 امیدوار میدان میں!
جاری کردہ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے باقاعدہ منظور شدہ میڈیا نمائندگان اور غیر جانبدار مبصرین اس موبائل فون اور کیمرہ پابندی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گے۔ چیف الیکشن کمشنر نے تمام ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (DROs) اور ریٹرننگ افسران (ROs) کو سخت ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ پولنگ اسٹیشنز کے اندر ان احکامات پر سو فیصد اور سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ کوئی بھی غیر قانونی سرگرمی جنم نہ لے سکے۔
واضح رہے کہ گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 عام نشستوں پر نئے انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل پوری تندہی کے ساتھ جاری ہے۔ صبح شروع ہونے والا یہ انتخابی عمل بغیر کسی تعطل کے شام پانچ بجے تک مسلسل جاری رہے گا، جس کے لیے سیکیورٹی اور انتظامیہ کی جانب سے سخت انتظامات کیے گئے ہیں تاکہ شہری پرامن ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر سکیں۔




