گرمیوں کا موسم شروع ہوتے ہی چونسا، لنگڑا، سندھڑی اور انور رٹول سمیت پھلوں کے بادشاہ آم کی بہار آ جاتی ہے۔ آموں کو کھانے سے پہلے آدھے گھنٹے یا اس سے زیادہ دیر تک پانی میں بھگو کر رکھنے کی روایتی رسم نسل در نسل چلی آ رہی ہے، جس کے پیچھے طبی سے زیادہ حفظانِ صحت کے سائنسی حقائق پوشیدہ ہیں۔
آم نہ صرف ذائقے میں لاجواب ہوتا ہے بلکہ یہ وٹامن اے، وٹامن سی، پوٹاشیم، فائبر اور اہم اینٹی آکسیڈنٹس سے بھی بھرپور ہے۔ یہ تمام اجزا ہماری قوت مدافعت بڑھانے، آنکھوں کی بینائی بہتر کرنے اور خون کی کمی دور کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ شدید گرمی میں آموں کو ٹھنڈے پانی میں بھگونے کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہے کہ ان کا بیرونی درجہ حرارت کم ہو جاتا ہے، جس سے انہیں کھانے پر جسم کو فوری تازگی کا احساس ملتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹریٹمنٹ سہولیات میں خامیوں پرجاپان کا انڈین آموں پر پابندی کا فیصلہ
روایتی دعوے اور سائنسی حقیقت:
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ آموں کو پانی میں بھگونے سے ان کی “گرمی” یا تاثیر ٹھنڈی ہو جاتی ہے، جس کی وجہ سے چہرے پر کیل مہاسے نہیں نکلتے، نکسیر نہیں پھوٹتی اور ہاضمہ درست رہتا ہے۔ تاہم، طبی اور غذائی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان دعوؤں کی کوئی سائنسی بنیاد نہیں ہے۔ ماہرینِ غذائیت کے مطابق، آم کو پانی میں بھگونے سے اس کے اندر موجود غذائیت، وٹامنز یا قدرتی مٹھاس میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اور جسم کی گرمی یا ہاضمے کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ آپ دن بھر میں کتنا پانی پیتے ہیں اور آپ کی مجموعی خوراک کیسی ہے۔
پرانی روایت کا سب سے بڑا سائنسی فائدہ:
دراصل آم باغات سے ٹوٹنے کے بعد کئی مرحلوں، ٹرانسپورٹ اور ذخیرہ اندوزی سے گزر کر ہم تک پہنچتا ہے۔ ماہرین کے نزدیک اس طویل سفر میں آم پر دھول، مٹی اور خطرناک جراثیم جمع ہو جاتے ہیں، جنہیں پانی میں بھگونے سے مکمل طور پر صاف کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آم کے چھلکے پر موجود اس کا قدرتی رس یا چپکنے والا سفید مادہ (لیٹکس یا چیپ) گلے کی خراش، کھانسی یا الرجی کا باعث بن سکتا ہے، جو پانی میں بھگونے سے صاف ہو جاتا ہے۔ یہ عمل چھلکے کی سطح پر موجود کیڑے مار ادویات (پیسٹی سائیڈز) کے اثرات کو بھی بڑی حد تک کم کر دیتا ہے۔
مزید پڑھیں: چکار،جنگلی پھل ” کروکنی “ کھانے سے 4 بچوں کی حالت غیر ہو گئی ،الرٹ جاری
صحت کے ماہرین کا مشورہ ہے کہ آم کھانے سے پہلے اسے صاف پانی سے اچھی طرح دھونا ہی کافی ہے، البتہ جو افراد لیٹیکس سے حساس ہوں ان کے لیے آم کو کچھ دیر پانی میں بھگونا ایک اچھی حفظانِ صحت کی عادت ہے۔ ماہرین نے تاکید کی ہے کہ گرمیوں کے موسم میں آموں کو اعتدال میں رہ کر کھایا جائے اور پانی کا زیادہ استعمال کیا جائے تاکہ اس لذیذ پھل سے محفوظ لطف اٹھایا جا سکے۔



