فیفا ورلڈ کپ 2026 کی تیاریاں مکمل: 48 ٹیموں کے اسکواڈز کا اعلان، 1248 کھلاڑیوں کی ریکارڈ شمولیت

دنیائے کھیل کا سب سے بڑا میلہ، فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026، اپنے تمام تر رعنائیوں کے ساتھ 12 جون سے شروع ہونے جا رہا ہے۔ اس عالمی ٹورنامنٹ کی تیاریاں اس وقت عروج پر ہیں اور تمام 48 شریک ٹیموں کے اسکواڈز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے بعد ایونٹ کے کامیاب انعقاد کے لیے میدان سج چکے ہیں۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 فٹبال کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا ٹورنامنٹ قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اس بار مجموعی طور پر 1248 کھلاڑی ایکشن میں نظر آئیں گے۔ امریکا، میکسیکو اور کینیڈا کی مشترکہ میزبانی میں منعقد ہونے والا یہ پہلا ورلڈ کپ ہے جس میں ٹیموں کی تعداد بڑھا کر 48 کر دی گئی ہے، جس نے کھلاڑیوں کی شمولیت کا ایک نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

ٹورنامنٹ کے نئے فارمیٹ کے تحت تمام 48 ٹیموں کو 12 مختلف گروپس میں تقسیم کیا گیا ہے، جہاں ہر گروپ 4 ٹیموں پر مشتمل ہوگا۔ شائقینِ فٹبال کے لیے یہ ایونٹ سسپنس سے بھرپور ہوگا کیونکہ اس بار مجموعی طور پر 104 میچز کھیلے جائیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ٹیمیں اور کھلاڑی عالمی ٹرافی کے لیے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ ، فیفا نے ایرانی ٹیم کو بڑی پیشکش کردی

اعداد و شمار کے مطابق اس بار 891 کھلاڑی پہلی بار عالمی کپ کے میدان میں قدم رکھیں گے، جبکہ 357 کھلاڑی ایسے ہیں جو اس سے قبل بھی فیفا ورلڈ کپ کھیلنے کا اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔ ایونٹ میں چار نئے ممالک کیپ ورڈے، کوراساؤ، اردن اور ازبکستان پہلی بار اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے تیار ہیں، جو کہ فٹبال کی عالمی مقبولیت میں اضافے کی عکاسی ہے۔

فٹبال کی دنیا کے مایہ ناز کھلاڑی لیونل میسی، کرسٹیانو رونالڈو اور گیلرمو اوچوا اس بار تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ یہ تینوں اسٹارز اپنا چھٹا ورلڈ کپ کھیلنے کے لیے میدان میں اتریں گے، جو کہ کسی بھی فٹبالر کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز ہے۔ ان تجربہ کار کھلاڑیوں کی موجودگی نے شائقین کے جوش و خروش کو مزید بڑھا دیا ہے۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 میں عمر کے لحاظ سے بھی بڑے دلچسپ فرق دیکھنے کو ملیں گے۔ ایونٹ میں شامل سب سے کم عمر کھلاڑی کی عمر محض 17 سال ہے جبکہ سب سے عمر رسیدہ کھلاڑی 43 سال کے ہیں۔ اس بار ٹورنامنٹ میں 7 ایسے کھلاڑی شامل ہیں جن کی عمریں 40 سال سے زائد ہیں، جبکہ انڈر 20 کے 22 باصلاحیت پلیئرز بھی اپنی کارکردگی دکھانے کے لیے بے تاب ہیں۔

مزید پڑھیں: ایرانی ٹیم کے میچ میکسیکو منتقل کرنیکا مطالبہ، فیفا نے فیصلہ سنا دیا