اسلام آباد: کشمیری مہاجرین کے تحفظ کے لیے قائم تنظیم “حکم “کے رہنماء، سابق وفاقی وزیردانیال عزیز نے کہا ہے کہ آزاد جموں و کشمیر میں جاری سیاسی کشیدگی اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض تجاویز نہ صرف کشمیری مہاجرین کے حقوق پر حملہ ہیں بلکہ کشمیر کاز کو بھی نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے دانیال عزیز نے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خلاف چلائی جانے والی مہم حقائق کے منافی ہے، مہاجرین کے خلاف نفرت انگیز زبان اور توہین آمیز القابات کا استعمال کسی بھی مہذب سیاسی روایت کے خلاف ہے۔
یہ بھی پڑھیں: مہاجرین نشستوں پر مذاکرات،عوامی ایکشن کمیٹی کا رویہ مثبت رہا،چوہدری یٰسین
اختلاف رائے ہر شخص کا حق ہے لیکن کسی طبقے کی شناخت اور قربانیوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے، کشمیر کاز کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ مہاجرین اور مقامی آبادی کے درمیان اتحاد برقرار رکھا جائے، تقسیم، نفرت اور محاذ آرائی کی سیاست سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا،
ان کا کہنا تھا کہ 1947 ءمیں لاکھوں کشمیریوں نے پاکستان کے حق میں قربانیاں دیں، ہزاروں افراد شہید ہوئے اور لاکھوں لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ انہی تاریخی حقائق کی بنیاد پر کشمیری مہاجرین کو آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں نمائندگی دی گئی، جسے ختم کرنے کی کوشش کسی صورت قبول نہیں کی جا سکتی۔
ماضی میں آزاد کشمیر اسمبلی کی کل 25 نشستیں تھیں جن میں 12 نشستیں مہاجرین کے لیے مختص تھیں، جبکہ آج اسمبلی کی تعداد 53 نشستوں تک پہنچ چکی ہے۔
اگر اخراجات کم کرنا مقصد ہے تو اس کا حل مہاجرین کی نمائندگی ختم کرنا نہیں بلکہ وسیع تر اصلاحات ہیں، پاکستان نے ہمیشہ کشمیری مہاجرین کی سرپرستی کی اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے کردار ادا کیا۔ آج بھی آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبے، سڑکیں، ڈیم، ہسپتال، تعلیمی ادارے اور دیگر بنیادی سہولیات پاکستان کے تعاون سے ہی ممکن ہو رہی ہیں۔
انہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی بعض قیادتوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مہاجرین کی نشستوں کے خاتمے سے نہ تو کرپشن ختم ہوگی اور نہ ہی آزاد کشمیر کے مالی مسائل حل ہوں گے، اگر احتساب مطلوب ہے تو بلاامتیاز احتساب ہونا چاہیے، صرف ایک طبقے کو نشانہ بنانا مسئلے کا حل نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بعض سیاسی جماعتوں نے ماضی میں مذاکرات کے دوران مہاجرین کی نشستوں کی معطلی یا خاتمے پر آمادگی ظاہر کرکے حالات کو مزید پیچیدہ بنایا، ایسے فیصلوں نے کشیدگی میں اضافہ کیا اور آج کے بحران کی بنیاد رکھی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی میں مذاکرات کامیاب ہونگے:شوکت جاوید میر
انہوں نے کہا کہ کشمیر کاز کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ مہاجرین اور مقامی آبادی کے درمیان اتحاد برقرار رکھا جائے۔ تقسیم، نفرت اور محاذ آرائی کی سیاست سے صرف دشمن قوتوں کو فائدہ پہنچے گا۔
انہوں نے حکومت پاکستان، آزاد کشمیر حکومت اور تمام سیاسی و سماجی قوتوں پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں، کشمیری مہاجرین کے آئینی حقوق کا تحفظ یقینی بنائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو کشمیر کاز یا قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔
تمام فریقین کو تحمل، بردباری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسئلے کا پرامن اور آئینی حل تلاش کرنا چاہیے تاکہ آزاد کشمیر میں استحکام اور قومی یکجہتی کو فروغ مل سکے۔




