آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے موصولہ رپورٹ کے مطابق، سینٹرل بار ایسوسی ایشن مظفرآباد کی کال پر وکلاء برادری نے اپنے بنیادی مطالبات پر مبنی حکومت کو پیش کردہ ‘چارٹر آف ڈیمانڈ’ پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شدید احتجاج کیا ہے۔ وکلاء نے دوپہر 12 بجے کے بعد عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کرتے ہوئے جزوی ہڑتال کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے، جس کے باعث عدالتی امور بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
بار ایسوسی ایشن کا 5 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ مظفرآباد کی وکلاء برادری کی جانب سے حکومت کو فراہم کردہ باضابطہ چارٹر آف ڈیمانڈ میں 5 بنیادی مطالبات شامل کیے گئے ہیں، جو کہ درج ذیل ہیں:
- لائر پروٹیکشن ایکٹ کا ملک میں فوری اور بلا تاخیر نفاذ یقینی بنایا جائے۔
- وکلاء برادری اور ان کے اہلخانہ کے لیے بہترین میڈیکل سہولیات فراہم کی جائیں۔
- لاء آفیسران، لیگل ایڈوائزرز اور اسٹینڈنگ کونسلز کے ماہانہ مشاہرات میں وفاق کے برابر اضافہ کیا جائے۔
- وکلاء کے لیے نئے پلاٹس اور چیمبرز کی فوری فراہمی کو ممکن بنایا جائے۔
- سہیلی سرکار سے جوڈیشل کمپلیکس نلوچھی تک کی اہم سڑک کی فوری تعمیر کا کام شروع کیا جائے۔
حکومتی عدم توجہی اور احتجاج کا دائرہ بڑھانے کی دھمکی اس موقع پر احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے وکلاء نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بار کے جائز مطالبات اور چارٹر آف ڈیمانڈ پر مسلسل عدم توجہی برتی جا رہی ہے، جس کے باعث مجبورا یہ سخت احتجاجی اقدام اٹھانا پڑا ہے۔ وکلاء رہنماؤں کا صاف کہنا تھا کہ اگر حکومت نے اب بھی سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا اور ان کے حقوق پر عملدرآمد یقینی نہ بنایا تو احتجاج کا دائرہ کار مزید وسیع کرتے ہوئے اسے مکمل پہیہ جام ہڑتال میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیر بینک میں جاری اندرونی تنازعات نے ادارے کی اڑان روک دی
وکلاء رہنماؤں کا مؤقف اور یکم جون کی ڈیڈ لائن سینٹرل بار ایسوسی ایشن کے صدر راجہ ضیغم افتخار اور سابق سیکرٹری جنرل وحید بشیر اعوان نے میڈیا کے نمائندوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ وکلاء برادری اپنے پیشہ ورانہ حقوق اور عدالتی نظام سے متعلق تمام مسائل کے حتمی حل تک اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھے گی۔ بار کی جانب سے باقاعدہ طور پر ڈیڈ لائن جاری کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یکم جون 2026ء تک اگر ہمارے تمام جائز مطالبات پورے نہ کیے گئے تو عدالتوں کے مستقل بائیکاٹ کے ساتھ ساتھ بھرپور احتجاج اور دھرنا دیا جائے گا۔




