چوہدری رشید،دیوان چغتائی:کس کا پلڑا بھاری؟باسط بخاری کی دبنگ انٹری

وادی لیپا(کشمیر ڈیجیٹل) وادی لیپا میں الیکشن کا بگل بجنےسے قبل ہی سیاسی ہلچل عروج پر ، لوگوں کی بڑی تعداد نے کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام سعدذوالفقار خان سدوزئی کیساتھ گفتگو میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے اپنے اپنے امیدواروں کو کھل کر سپورٹ کرنے کا عندیہ دیدیا۔

وادی لیپا کے عوام نے ماضی میں دیوان علی چغتائی کی کھل کر حمایت کی تھی جبکہ سابق وزیراعظم راجہ فاروق حیدر نے ساڑھے پندرہ ہزار ووٹ لیے تھے ۔ اب کی بار راجہ فاروق حیدر نے دیوان علی چغتائی کے مقابلے میں چوہدری رشید کو مسلم لیگ ن میں شامل کروا کراپنا بدلہ چکایا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جنگلات کو آگ لگانے والے عناصر کے گرد گھیرا تنگ، 5 مقدمات درج

دوسری جانب دیوان علی چغتائی کی مسلم لیگ ن میں شمولیت میں راجہ فاروق حیدر سب سے بڑی رکاوٹ بن گئے ، دیوان علی چغتائی اس سے قبل تحریک انصاف کے ٹکٹ پر الیکشن جیتے تھے جنہوں نے بعد ازاں تحریک انصاف چھوڑ کر چوہدری انوارالحق کے گروپ میں شمولیت اختیار کرلی تھی جو بعد ازاں ان کی کابینہ اور آج بھی بطور وزیرتعلیم پیپلزپارٹی کا بینہ کا حصہ ہیں ۔

کشمیر ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے شہریوں کی بڑی تعداد نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے دیوان علی چغتائی سے سیاسی وابستگی کا اظہار کیا جبکہ مسلم لیگ ن سے بھی وابستگی سامنے آئی ہے ، شہریوں کی اکثریت نے چوہدری رشید کے حق میں اپنا فیصلہ سنایا ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:گرمی سے ستائے سیاحوں کا وادیٔ نیلم پر دھاوا؛ مقامی لوگوں نے گھروں کے دروازے بھی کھول دیے

وادی لیپا کی ایک کثیر تعداد ایسی بھی سامنے آئی جو سیاسی جماعتوں سے بیزار نظر آئی ۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ موجودہ سیاستدانوں سے آپ کی امیدیں وابسطہ نہیں تو ووٹ کس کو دیں گے تو ان شہریوں نے کہا کہ اس بار کسی کو بھی ووٹ نہیں دینگے

دوسری جانب شہریوں کی ایک کثیر تعداد نے آزاد امیدوار سید باسط علی بخاری کے حق میں بھی آواز بلند کردی ۔ شہریوں کا کہنا تھا کہ دیگر جماعتوں کے قائدین باریاں لے لے کر آتے رہے اور عوامی مسائل کو نظر انداز کرتے رہے ۔ سید باسط علی بخاری نوجوان اور عوامی آواز ہیں وہی عوامی مسائل حل کرنے کا ادراک رکھتے ہیں ۔

کشمیر ڈیجیٹل کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہریوں کی بہت کم تعداد پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے حق میں نظر آئی تاہم اس ساری عوامی رائے میں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مبینہ امیدوار دیوان علی چغتائی کے حق میں عوام کی کثیر تعداد میں رائے دہی کا اظہار کیا۔