نیلم (1 جون 2026): ملک میں گرمی کی شدت بڑھتے ہی وادیٔ نیلم میں سیاحوں کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آ رہا ہے، جس کے باعث چلہانہ سے تاؤبٹ تک ہوٹل اور گیسٹ ہاؤسز مکمل طور پر فل ہو چکے ہیں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مقامی انتظامیہ اور پولیس کی جانب سے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ عوامی حلقوں کی جانب سے وادی میں سڑکوں کی حالت بہتر بنانے اور انفراسٹرکچر کی ترقی کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا ہے۔
ملک کے دیگر حصوں میں گرمی کی لہر اور تپش میں اضافے کے ساتھ ہی وادیٔ نیلم میں سیاحتی سیزن عروج پر پہنچ گیا ہے. گرمی سے متاثرہ بالخصوص میدانی علاقوں سے ہزاروں کی تعداد میں سیاحوں نے وادیٔ نیلم کے ٹھنڈے اور دلفریب مقامات کا رخ کر لیا ہے. سیاحوں کی اس ریکارڈ آمد کے باعث چلہانہ سے لے کر آخری سرحدی گاؤں تاؤبٹ تک تمام گیسٹ ہاؤسز، ہوٹلز، ریسٹورنٹس اور تجارتی مراکز میں کاروباری سرگرمیوں میں زبردست تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے. رش اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ ہوٹلوں میں جگہ کم پڑنے پر متعدد مقامات پر مقامی لوگوں نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے نجی گھروں میں بھی سیاحوں کو رہائش کی سہولیات فراہم کی ہیں
یہ بھی پڑھیں: چلہانہ باب نیلم ریالی وارڈ سے آئندہ مزید سرپرائز دوں گا : ثقلین فدا کاظمی ایڈووکیٹ
انتظامیہ اور پولیس کے قابلِ تحسین اقدامات:
سیاحوں کے اس بڑے ریلے کو مینیج کرنے کے لیے ڈپٹی کمشنر (DC) نیلم اور ایس پی (SP) نیلم کی جانب سے خصوصی احکامات جاری کیے گئے تھے، جن کے تحت تمام سیاحتی پوائنٹس پر شہریوں کو سہولیات دینے کے لیے ہائی الرٹ برقرار رکھا گیا. اس دوران اسسٹنٹ کمشنر آٹھمقام، تحصیلدار آٹھمقام، ڈی ایس پی آٹھمقام، ایس ایچ او آٹھمقام، اسسٹنٹ کمشنر شاردہ، تحصیلدار شاردہ، ڈی ایس پی شاردہ، ایس ایچ او شاردہ، نائب تحصیلدار کیل، ایس ایچ او کیل اور چوکی آفیسر جانوئی سمیت ضلعی انتظامیہ اور پولیس کے تمام اہلکاروں نے فیلڈ میں متحرک کردار ادا کیا. انتظامیہ کی اس ٹیم نے وادی میں امن و امان قائم رکھنے، دور دراز سے آئے مہمانوں کی رہنمائی کرنے اور کٹھن راستوں پر ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے میں بھرپور کامیابی حاصل کی، جسے عوامی اور سماجی حلقوں میں بڑے پیمانے پر سراہا جا رہا ہے.
سیاحت کی ترقی کے لیے بنیادی مطالبات:
وادیٔ نیلم میں سیاحت کو واحد سب سے بڑی صنعت مانا جاتا ہے جس سے خطے کے ہزاروں کشمیری خاندانوں کا چولہا اور روزگار وابستہ ہے. تاہم، اس صنعت کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے مقامی اسٹیک ہولڈرز اور ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وادی کی مرکزی اور رابطہ سڑکوں کی معیاری تعمیر کو اولین ترجیح دی جائے. خوبصورت لیکن پسماندہ اور دور افتادہ سیاحتی مقامات کو پکی سڑکوں کے ذریعے آپس میں جوڑا جائے، جبکہ سیاحوں کے لیے بین الاقوامی معیار کی رہائش، صاف پانی اور کھانے پینے کی جدید سہولیات کو مزید بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں وادیٔ نیلم میں سیاحت کو مزید فروغ دیا جا سکے




