عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کرنے لگیں

امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے تازہ ترین حملوں کے بعد عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر زوردار دھماکہ ہوا ہے۔ اس اچانک اور بڑے اضافے نے عالمی معیشت اور توانائی کی بین الاقوامی منڈیوں میں تشویش کی ایک شدید لہر دوڑا دی ہے جس سے سپلائی چین متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عالمی مارکیٹ کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ آئل کی قیمت میں تقریباً 4 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے بعد اس کی قیمت 99.58 ڈالر فی بیرل کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب امریکی خام تیل (WTI) بھی تیزی سے اوپر گیا ہے اور مارکیٹ بند ہونے تک اس کی قیمت 93.89 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا اضافہ، برینٹ کروڈ 98 ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا

موجودہ عسکری حملوں سے محض ایک روز قبل عالمی مارکیٹ میں صورتحال بالکل اس کے برعکس دیکھی گئی تھی۔ گزشتہ روز امریکا اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ سفارتی معاہدے اور آبنائے ہرمز کے کھلنے کی امید پر قیمتوں میں بڑی کمی آئی تھی جہاں برینٹ کروڈ 7 فیصد کمی کے ساتھ 96.30 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 90.88 ڈالر فی بیرل تک آگیا تھا۔

تازہ امریکی حملوں کے بعد اب سرمایہ کاروں اور عالمی کاروباری حلقوں میں یہ خدشات حد سے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں عسکری کشیدگی مزید شدت اختیار کر جائے گی۔ اس کشیدہ ماحول کے باعث سب سے بڑا خطرہ یہ پیدا ہو گیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے انتہائی اہم بحری راستے کے ذریعے ہونے والی تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں: ایران اور امریکا میں معاہدے کے امکانات روشن، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں

ماہرینِ اقتصادیات کے مطابق دنیا بھر کی مجموعی تیل کی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد حصہ اسی اہم اور حساس ترین بحری راستے یعنی آبنائے ہرمز سے ہو کر گزرتا ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ دنیا میں ایک نئے توانائی بحران کو جنم دے سکتی ہے جس کے منفی اثرات سے عالمی اسٹاک مارکیٹس بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں اور مہنگائی کا نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔