مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی شدید فوجی کشیدگی اور ایران پر امریکی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
خطے میں جاری امن مذاکرات سے متعلق غیر یقینی صورتحال نے سرمایہ کاروں کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں تیزی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔
برینٹ اور ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کے تازہ ترین اعداد و شمار:
بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ اب انتہائی تیز ہو گیا ہے۔ آج ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران ہونے والے اضافے کی تفصیلات کے مطابق برینٹ کروڈ (بین الاقوامی مارکیٹ) کی تازہ ترین قیمت 98.12 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے، جبکہ گزشتہ روز اس کی بندش 96.00 ڈالر پر ہوئی تھی، جس کا مطلب ہے کہ اس میں تقریباً 2 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا ہے۔ دوسری جانب ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت بھی 91.00 ڈالر کی گزشتہ بندش سے بڑھ کر 91.79 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے، جو تقریباً 1 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتی ہے۔ گزشتہ کاروباری روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی تھی جہاں برینٹ کروڈ 7 فیصد اور امریکی خام تیل 5 فیصد تک گر گئے تھے، تاہم نئی فوجی کارروائیوں نے اس گراوٹ کو چند ہی گھنٹوں میں ختم کر دیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایران اور امریکا میں معاہدے کے امکانات روشن، عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں گر گئیں
قیمتوں میں اچانک اضافے کی بنیادی وجوہات:
توانائی کے ماہرین کے مطابق اس وقت مارکیٹ کو دو بڑے عوامل مکمل طور پر کنٹرول کر رہے ہیں۔ پہلا بڑا عامل جنوبی ایران پر امریکی حملے ہیں، جہاں امریکی فوج کی جانب سے جنوبی ایران میں مبینہ دفاعی کارروائیاں کی گئی ہیں، جس نے جنگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع کر دیا ہے۔ دوسرا اہم ترین عامل آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ہے کیونکہ ایران نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے آبنائے ہرمز (اسٹریٹ آف ہرمز) سے غیر ملکی تجارتی اور مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت کو تقریباً محدود کر دیا ہے اور یہ آبی راستہ عالمی توانائی کی سپلائی لائن کا دل مانا جاتا ہے۔
قطر مذاکرات اور سفارتی غیر یقینی صورتحال:
ایک طرف جہاں میدانِ جنگ مسلسل گرم ہے، وہیں دوسری طرف امریکا اور ایران کے درمیان پسِ پردہ امن معاہدے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں اہم مذاکرات بھی جاری ہیں، تاہم دونوں فریقین کے درمیان تاحال مکمل اتفاقِ رائے نہیں ہو سکا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس تمام صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے مسودے کی زبان اور سخت شرائط کو حتمی شکل دینے میں ابھی چند دن مزید لگ سکتے ہیں۔ وزیرِ خارجہ کے اس بیان نے مارکیٹ میں موجود سرمایہ کاروں کو مزید محتاط کر دیا ہے، کیونکہ جب تک معاہدے پر باقاعدہ دستخط نہیں ہو جاتے، سپلائی بحال ہونے کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔
آبنائے ہرمز کی عالمی اہمیت اور تیل کی سیاست:
آبنائے ہرمز دنیا کی معیشت کے لیے وہ شہ رگ ہے جس کے بند ہونے کا تصور بھی عالمی مارکیٹ کو بری طرح ہلا کر رکھ دیتا ہے۔ یہ عمان اور ایران کے درمیان واقع ایک انتہائی تنگ سا آبی راستہ ہے جو خلیجِ فارس کو بحیرہ عمان سے ملاتا ہے۔ دنیا بھر میں سمندر کے راستے سپلائی ہونے والے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد اسی اہم راستے سے گزرتا ہے جبکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت، عراق اور قطر جیسے بڑے ملکوں کی تیل و گیس کی مجموعی برآمدات کا پورا دارومدار اسی گزرگاہ پر ہے۔ ماضی میں بھی جب کبھی ایران اور امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوئے، آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکیوں نے راتوں رات تیل کی قیمتوں کو 100 ڈالر سے اوپر پہنچا دیا تھا اور حالیہ بحران نے ایک بار پھر 1970 کی دہائی کے توانائی بحران کی یاد تازہ کر دی ہے۔
مزید پڑھیں: دوسالوں میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں کتنے ارب وصول کئے گئے؟اعداد وشمار آگئے
مذاکرات کی کامیابی یا 100 ڈالر کا ہدف:
توانائی کی مارکیٹ اس وقت مکمل طور پر جیو پولیٹیکل (جغرافیائی سیاست) کے رحم و کرم پر ہے۔ معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ مارکیٹ اس وقت ہائیبرڈ پوزیشن میں ہے اور اگر قطر مذاکرات ناکام ہوتے ہیں اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی برقرار رہتی ہے، تو سپلائی کا یہ تعطل برینٹ کروڈ کی قیمت کو چند ہی دنوں میں 110 ڈالر تک لے جائے گا، جس کا براہِ راست اثر دنیا بھر میں مہنگائی کی نئی لہر کی صورت میں نکلے گا۔ اس کے برعکس، اگر اگلے 48 سے 72 گھنٹوں میں کسی ابتدائی معاہدے کا باقاعدہ اعلان ہو جاتا ہے، تو برینٹ فوری طور پر 85 ڈالر کی سطح تک نیچے آ سکتا ہے، اسی لیے سرمایہ کاروں کے لیے اس وقت ’انتظار کرو اور دیکھو‘ کی پالیسی ہی سب سے محفوظ راستہ ہے۔



