فریضہ حج کی ادائیگی کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے لاکھوں حجاج کرام کا مقدس سفر تیسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں جمرہ عقبہ پر رمی کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ اس سے قبل تمام حجاج کرام نے 9 ذوالحجہ کی رات سنت نبوی ﷺ کی پیروی کرتے ہوئے مزدلفہ کے کھلے میدان میں گزاری اور وہاں قصر و جمع کی صورت میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کیں۔
اگلے روز 10 ذوالحجہ کو تمام حجاج کرام مرحلہ وار اور منظم قافلوں کی شکل میں دوبارہ وادی منیٰ پہنچے جہاں انہوں نے مناسکِ حج کی ادائیگی کے تحت جمرہ عقبہ یعنی بڑے شیطان کو کنکریاں ماریں۔ جمرہ عقبہ پر رمی کرنے کے بعد حجاج نے سنتِ ابراہیمی کے مطابق قربانی کا فریضہ سرانجام دیا اور پھر اپنے بال اتروا کر احرام کی تمام تر پابندیوں سے آزاد ہو گئے۔
یہ بھی پڑھیں: 17 لاکھ 7 ہزار 310عازمین نے حج کی سعادت حاصل کی؟سعودی حکام
سعودی حکومت کی جانب سے حجاج کی سہولت کے لیے متعارف کرائے گئے خصوصی قربانی کے ’الاضاحی‘ پروگرام کے تحت تمام عازمین کو باقاعدہ وقت پر مطلع کر دیا جاتا ہے کہ ان کی جانب سے قربانی کس وقت مکمل ہو گی۔ 10 ذوالحجہ کو جن حجاج نے قربانی کا عمل مکمل کر لیا، انہوں نے بال کٹوا کر احرام کھول دیا ہے۔ حجاج آج کا پورا دن منیٰ میں ہی قیام کریں گے اور اپنے خیموں میں رہ کر خصوصی عبادتیں کریں گے جبکہ کل 11 ذوالحجہ کو تینوں شیطانوں کو سات سات کنکریاں ماری جائیں گی۔
جمرات پل پر سعودی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی کے انتہائی مثالی اور فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں جن میں پل پر آمدورفت کے راستوں کو الگ الگ کرنا سب سے اہم اقدام ہے۔ راستوں کو جدا کرنے کا بنیادی مقصد پل پر جانے والے اور رمی مکمل کر کے واپس آنے والے حجاج کے درمیان ممکنہ ٹکراؤ کو روکنا اور انہیں کسی بھی قسم کے غیر ضروری ازدحام یا بھگدڑ سے محفوظ رکھنا ہے۔
مزید پڑھیں: 2026میں کونسی پاکستانی سیلیبرٹیز نے حج کی سعادت حاصل کی؟
حجاج کرام کو شدید گرمی کی لہر سے بچانے کے لیے جمرات پل کے تمام راستوں پر جگہ جگہ ٹھنڈے میٹھے پانی کے کولرز نصب کیے گئے ہیں جبکہ پل کی زیریں اور بالائی منزلوں پر تازہ ہوا کے دباؤ کو برقرار رکھنے کے لیے بڑے بڑے پنکھے چالو ہیں تاکہ حجاج بغیر کسی دشواری کے رمی کا عمل مکمل کر سکیں۔ اس پورے آپریشن کے دوران سعودی فورسز کے سکیورٹی اہلکار، سکاؤٹس اور مقامی رضا کار حجاج کی رہنمائی اور مدد میں سب سے پیش پیش نظر آ رہے ہیں۔




