(ڈاکٹر راجہ زاہد خان — تجزیہ کار)
آزاد جموں و کشمیر کے ضلع پونچھ کے علاقے کھڑک میں 21 مئی 2026 کو ہونے والا احتجاجی دھرنا محض ایک مقامی ردِعمل نہیں تھا بلکہ یہ ایک گہری تشویش، ایک فکری بغاوت اور ایک ایسے بحران کی نشاندہی تھا جو پورے تعلیمی نظام کی بنیادوں کو ہلا سکتا ہے۔ ایلیمنٹری کالجز کے خاتمے اور آسامیوں کی منتقلی کے حکومتی فیصلے کے خلاف عوام، اساتذہ، ریٹائرڈ ماہرین تعلیم، خواتین اور سماجی و سیاسی قیادت کا ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونا اس امر کا ثبوت ہے کہ یہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ نسلوں کے مستقبل کا سوال بن چکا ہے۔
اس احتجاج کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں معاشرے کے وہ طبقات بھی پیش پیش تھے جو عموماً خاموش رہتے ہیں—بالخصوص خواتین اور ریٹائرڈ تعلیمی ماہرین۔ ریٹائرڈ ڈی پی آئی رخسانہ لطیف، سابق پرنسپلز زرینہ اشرف، شبرات بیگم، نذیرہ صاحبہ، لائبریرین شاہین اختر اور ایگروٹیک ماہر وزیرہ حیات سمیت درجنوں خواتین کی شرکت نے اس احتجاج کو ایک نئی معنویت دی۔ مردوں میں شفقت شاہ، ڈاکٹر نثار احمد اور شفقت حیات جیسے نامور تعلیمی رہنماؤں کی موجودگی نے اس تحریک کو مزید تقویت بخشی۔
احتجاج اس وقت شدت اختیار کر گیا جب گوئی نالہ روڈ کو چار گھنٹے تک بلاک کر دیا گیا اور ٹرانسپورٹ مکمل طور پر معطل رہی۔ گڈز ٹرانسپورٹ یونین کے صدر عمران سجاق، جنرل سیکرٹری لالہ نواز اور جماعت اسلامی کے رہنما عدنان رزاق کی قیادت میں ہونے والا یہ اقدام اس بات کا واضح اظہار تھا کہ یہ مسئلہ اب صرف تعلیمی حلقوں تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک عوامی تحریک میں تبدیل ہو رہا ہے۔
ایلیمنٹری کالجز: نظام تعلیم کی ریڑھ کی ہڈی
یہ سمجھنا انتہائی ضروری ہے کہ ایلیمنٹری کالجز محض تعلیمی ادارے نہیں بلکہ اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت کے بنیادی مراکز ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں تعلیمی ترقی کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اساتذہ کو کس حد تک جدید تدریسی مہارتوں، نفسیاتی فہم، اور ٹیکنیکل تربیت سے آراستہ کیا جاتا ہے۔
ایلیمنٹری کالجز دراصل وہ نرسریاں ہیں جہاں:
مستقبل کے اساتذہ کو پیڈاگوجی (Pedagogy) کی تربیت دی جاتی ہے
جدید تدریسی طریقوں، کلاس روم مینجمنٹ، اور سٹوڈنٹ سائیکالوجی کی عملی مشق کروائی جاتی ہے
نصاب کو مؤثر انداز میں منتقل کرنے کی مہارت پیدا کی جاتی ہے
یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک جیسے Finland، Singapore اور Canada میں ٹیچر ٹریننگ اداروں کو تعلیمی نظام کا سب سے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ ان ممالک میں اساتذہ کی تربیت پر کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہیں کیا جاتا، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ:
“ایک مضبوط استاد ہی ایک مضبوط قوم کی بنیاد رکھتا ہے”
آزاد کشمیر: محدود وسائل، بڑی کامیابی
آزاد کشمیر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس کے تعلیمی اشاریے عالمی سطح پر تسلیم کیے گئے ہیں۔ United Nations Development Programme (UNDP) کی رپورٹس کے مطابق، ایک نیم جنگی اور وسائل کی کمی کا شکار خطہ ہونے کے باوجود، آزاد کشمیر نے تعلیم کے شعبے میں نمایاں پیش رفت کی ہے، جو کہ SDGs (Sustainable Development Goals) کے اہم اہداف میں شامل ہے۔
یہ کامیابی اتفاقیہ نہیں بلکہ:
اساتذہ کی محنت
تربیتی اداروں کی موجودگی
معاشرتی شعور
کا نتیجہ ہے۔
ایسے میں اگر ایلیمنٹری کالجز جیسے اداروں کو ختم کیا جاتا ہے تو یہ صرف ایک ادارے کا خاتمہ نہیں بلکہ:
ایک کامیاب ماڈل کی تباہی
ایک مضبوط نظام کی جڑوں پر وار
اور مستقبل کی تعلیمی پالیسیوں کی ناکامی کا پیش خیمہ ہوگا
حکومتی فیصلہ: اصلاح یا خودکش حملہ؟
احتجاجی مقررین نے سیکریٹری تعلیم کے فیصلے کو نہ صرف غیر دانشمندانہ بلکہ “نظام تعلیم پر خودکش حملہ” قرار دیا۔ ان کا مؤقف واضح تھا کہ:
جہاں ان اداروں کو اپ گریڈ کیا جانا چاہیے تھا، وہاں انہیں ختم کیا جا رہا ہے
جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل لرننگ اور ریسرچ بیسڈ ٹریننگ متعارف کروانے کے بجائے بنیادی ڈھانچے کو ہی ختم کیا جا رہا ہے
یہ طرزِ حکمرانی نہ صرف پالیسی سازی کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے بلکہ یہ بھی سوال اٹھاتا ہے کہ آیا فیصلہ ساز زمینی حقائق سے واقف بھی ہیں یا نہیں۔
احتجاج: ایک وارننگ یا آغاز؟
انتظامیہ کی یقین دہانی پر احتجاج وقتی طور پر موخر ضرور کیا گیا ہے، لیکن عوامی نمائندگان نے واضح کر دیا ہے کہ اگر دو دن میں فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو:
پورے پونچھ میں شٹر ڈاؤن ہڑتال
چوک چوراہوں کی بندش
احتجاج کا دائرہ پورے آزاد کشمیر تک پھیلایا جائے گا
یہ صورتحال اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ کھڑک کا یہ دھرنا ایک بڑے عوامی ردعمل کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
نتیجہ: فیصلہ وقت کا نہیں، مستقبل کا ہے
ایلیمنٹری کالجز کا مسئلہ محض ایک انتظامی فائل نہیں بلکہ ایک نظریاتی جنگ ہے—تعلیم اور بیوروکریسی کے درمیان، مستقبل اور وقتی فیصلوں کے درمیان۔
اگر آزاد کشمیر واقعی اپنی تعلیمی کامیابیوں کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اسے:
تربیتی اداروں کو مضبوط کرنا ہوگا
اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی کو ترجیح دینی ہوگی
اور پالیسی سازی میں زمینی حقائق کو شامل کرنا ہوگا
ورنہ وہ دن دور نہیں جب آج کا یہ فیصلہ کل ایک بڑے تعلیمی بحران کی صورت اختیار کر لے گا۔
کھڑک کی آواز دراصل ایک سوال ہے:
کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کا مستقبل بچانا چاہتے ہیں یا اسے پالیسی کی نذر کر دینا چاہتے ہیں؟


