صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب ہونے والے حالیہ بزدلانہ اور سفاکانہ دہشت گردانہ حملے نے جہاں مسافروں کو نشانہ بنایا، وہاں اس بارود کے وار نے ایک ہنستا بستہ مقامی بلوچ خاندان بھی ہمیشہ کے لیے اجاڑ دیا ہے۔
ریلوے ٹریک کے بالکل نزدیک واقع ایک رہائشی عمارت پر دھماکے کے شل گرنے کے نتیجے میں ایک ہی خاندان کے 4 افراد موقع پر ہی شہید ہو گئے، جن میں ایک خاتون اور ان کے 2 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ اس دل دہلا دینے والے واقعے نے پوری مقامی آبادی اور کوئٹہ کے شہریوں کو شدید صدمے، خوف اور گہرے غم و غصے میں مبتلا کر دیا ہے۔
سیکیورٹی ذرائع اور عینی شاہدین کے مطابق، اتوار کو جب سرحد پار بھارتی پراکسی ’فتنہ الہندوستان‘ کے دہشت گردوں نے بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے ریلوے ٹریک کو اڑانے کی کوشش کی، تو دھماکے کی شدت اس قدر ہولناک تھی کہ اس کی زد میں آ کر قریبی عمارتیں بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔ عمارت کے اندر مقیم ایک بدقسمت بلوچ خاندان کے سربراہ (مرد)، ان کی اہلیہ اور 2 کمسن بچے ملبے تلے دب کر اور بارودی اسپلنٹرز لگنے کے باعث دم توڑ گئے۔ جیسے ہی ریسکیو ٹیموں نے ملبے سے معصوم بچوں اور ان کے والدین کے جسدِ خاکی نکالے، تو پورے علاقے میں رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔
یہ بھی پڑھیں: کوئٹہ چمن پھاٹک کے قریب جعفر ایکسپریس میں دھماکہ، 3 ایف سی جوانوں سمیت 14 افراد شہید

بی ایل اے اور بی وائی سی کے خلاف عوامی احتجاج:
اس قتلِ عام کے بعد مقامی بلوچ آبادی اور اہلِ علاقہ سڑکوں پر نکل آئے اور انہوں نے اس سفاکانہ حملے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ مقامی عمائدین اور شہریوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ معصوم شہریوں اور اپنے ہی بلوچ بھائیوں کو نشانہ بنانے کے پیچھے کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور اس کی فکری و سیاسی پشت پناہی کرنے والی بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے منسلک فتنہ الہندوستان کے دہشت گرد عناصر ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروہ حقوق کے نام پر بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں اور پرامن خطے میں دانستہ طور پر تشدد، بدامنی اور نسلی نفرت کو ہوا دینے کی ناپاک کوششوں میں مصروف ہیں۔
دہشت گردوں کا بیانیہ مسترد اور ‘مزاحمت’ کے نام پر بربریت:
واقعے کے بعد کوئٹہ اور ملک بھر میں عسکریت پسندی، غیر ملکی مداخلت اور نسلی و سیاسی تنازعات کے نتیجے میں ہونے والے انسانی نقصان پر بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ مقامی افراد نے دہشت گردوں کا بیانیہ مسترد کرتے ہوئے واضح کیا کہ یہ کسی قسم کی سیاسی یا نظریاتی جدوجہد نہیں بلکہ معصوم شہریوں کے خلاف کھلی بربریت اور دہشت گردی ہے۔ احتجاج میں شریک ایک سوگوار رہائشی نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ”اپنے ہی بچوں اور خواتین کا خون بہانا کہاں کی غیرت ہے؟ یہ کوئی مٹی کی مزاحمت نہیں، بلکہ خالصتاً دہشت گردی ہے جس کا شکار صرف اور صرف عام اور بے گناہ بلوچ ہو رہا ہے“۔ سانحے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے مقامی آبادی کے تحفظ کے لیے مزید سخت اور مؤثر اقدامات کا آغاز کر دیا ہے، تاہم یہ واقعہ ایک بار پھر اس تلخ ترین حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سب سے بڑا اور دردناک نقصان ہمیشہ بے گناہ اور عام خاندانوں کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔

کالعدم بی ایل اے کا بدلا ہوا ہدف اور مقامی بلوچوں کا ردِعمل:
ماضی میں کالعدم بلوچستان لبریشن آرمی جیسے عسکریت پسند گروہ خود کو ’بلوچ حقوق کے محافظ‘ کے طور پر پیش کرنے کا ڈرامہ رچاتے تھے اور ان کا ہدف زیادہ تر سیکیورٹی فورسز یا غیر مقامی مزدور ہوتے تھے۔ تاہم، حالیہ برسوں میں، بالخصوص ’فتنہ الہندوستان‘ (بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ’را‘) سے براہِ راست فنڈنگ اور اسلحہ ملنے کے بعد، ان گروہوں نے پبلک ٹرانسپورٹ، شاہراہوں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس بدلی ہوئی حکمتِ عملی کا سب سے بڑا شکار اب خود مقامی بلوچ آبادی ہو رہی ہے۔ جب دہشت گردوں کی بارود سے بھری گاڑیاں یا آئی ڈیز عوامی مقامات پر پھٹتی ہیں، تو وہ کسی کی قومیت نہیں دیکھتیں۔ چمن پھاٹک پر ایک پورے بلوچ خاندان کا خاتمہ ان عناصر کے اس جھوٹے بیانیے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے کہ وہ بلوچ عوام کے ہمدرد ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب پہلی بار بلوچستان کے اندر سے بی ایل اے اور ان کی سیاسی ونگز جیسے بی وائی سی کے خلاف عوامی سطح پر کھل کر مزاحمت اور شدید نفرت دیکھنے کو مل رہی ہے۔




