سپریم کورٹ آف پاکستان نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق ایک انتہائی اہم اور تاریخی تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی واضح اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع نہیں دی جا سکتی۔ عدالتِ عظمیٰ نے ماتحت عدالت کا خلع کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئے کیس کو صرف خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین کے لیے واپس فیملی کورٹ بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں قائم 3 رکنی بینچ کا یہ تفصیلی فیصلہ جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریر کیا ہے جو 12 صفحات پر مشتمل ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا ہے کہ ظلم کی بنیاد پر دائر کیے گئے کیس کو عدالت کی طرف سے خود ہی خلع میں تبدیل کرنا بیوی کے مالی حقوق کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ عدالت کا یہ فرض ہے کہ وہ بیوی کو یہ اختیار دے کہ وہ یا تو ظلم کا دعویٰ جاری رکھے یا پھر خلع کو قبول کرے۔
یہ بھی پڑھیں: آزادکشمیر : 6ارب 60کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز کا اجراء ہائیکورٹ میں چیلنج،فریقین کو نوٹس جاری
گھریلو تشدد کی تعریف اور ذہنی اذیت کا تذکرہ:
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں گھریلو تشدد اور ظلم کے دائرہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عدالت میں ظلم ثابت نہ ہو سکے مگر شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو، تو بیوی کو انتخاب کا حق دینا بے حد ضروری ہے کیونکہ عدالتیں زبردستی کسی مردہ رشتے کو بحال نہیں کرا سکتیں۔ فیصلے میں کہا گیا کہ گھریلو تشدد کی تعریف انتہائی وسیع ہے، جس میں جسمانی تشدد کے ساتھ ساتھ ذہنی اذیت اور تذلیل بھی شامل ہے۔ ذہنی ظلم میں جذباتی اذیت دینا، نظرانداز کرنا اور شدید ذہنی تکلیف میں مبتلا کرنا شامل ہے۔
فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار اور کیس کے حقائق:
عدالتِ عظمیٰ کے مطابق، فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار “غالب امکان” पर مبنی ہوگا، اور گھریلو جھگڑوں میں حقائق، فریقین کے رویے اور حالات کو مدنظر رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کیا جانا چاہیے۔ زیرِ نظر کیس کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت نے بتایا کہ شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی تھی جبکہ محض چند دن بعد 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیے کہ اتنی قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے اور ہر کیس کا انحصار اس کے اپنے مخصوص حقائق پر ہوتا ہے۔ اس کیس میں اگرچہ بیوی نچلی عدالتوں میں ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی، تاہم شادی ابتدا میں ہی ختم ہو چکی تھی اور بیوی مسلسل علیحدگی کے موقف پر قائم رہی۔
فیملی کورٹ کو 30 دن میں فیصلہ کرنے کی ہدایت:
سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی ہے کہ وہ 30 دن کے اندر اس کیس کو حتمی طور پر نمٹائے۔ فیملی کورٹ اب بیوی کا حتمی بیان خود ریکارڈ کرے گی اور اس کی حتمی مرضی معلوم کرے گی۔ اگر بیوی خلع کا انتخاب کرتی ہے تو فیصلہ تمام قانونی شرائط کے مطابق ہوگا، اور اگر وہ اپنے ظلم کے دعوے پر ہی قائم رہتی ہے تو کیس کا فیصلہ اسی بنیاد پر کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ اپیل سوات کی رہائشی مسمات سیلاب اختر نے اپنے شوہر قوت خان کے خلاف دائر کر رکھی تھی۔




