واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے مرکزی داخلی راستے پر قائم سیکیورٹی چیک پوسٹ کے قریب ایک مسلح شخص نے اچانک فائرنگ کردی، جس کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ۔
امریکی میڈیا کے مطابق سیکریٹ سروس اہلکاروں نے فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے حملہ آور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا ۔ حکام نے ملزم کی شناخت ظاہر نہیں کی، تاہم بتایا گیا ہے کہ وہ ذہنی دباؤ یا جذباتی پریشانی کا شکار تھا، البتہ اس کی وجہ سامنے نہیں آسکی ۔
رپورٹس کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں دو افراد گولیوں سے زخمی ہوئے جبکہ قریب موجود ایک راہگیر بھی زخمی ہوگیا۔ سیکریٹ سروس کے کسی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ۔
واقعہ مقامی وقت کے مطابق شام تقریباً 6 بجے پیش آیا، جس کے فوراً بعد وائٹ ہاؤس کو سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر لاک ڈاؤن کردیا گیا۔ بعد ازاں صورتحال قابو میں آنے پر لاک ڈاؤن ختم کردیا گیا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا ایران اختلافات ختم کرانے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا اہم ترین کردار ہے : واشنگٹن ٹائمز
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے وقت صدر ڈونلڈ ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں موجود تھے، اگرچہ حکام کی جانب سے اس کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی ۔
عینی شاہد صحافیوں کے مطابق وائٹ ہاؤس کے باہر تقریباً 30 گولیاں چلنے کی آوازیں سنائی دیں، جس کے بعد اسنائپرز کو فوری طور پر عمارت کی چھت پر تعینات کردیا گیا ۔
نارتھ لان میں موجود صحافیوں کو حفاظتی اقدام کے طور پر پریس بریفنگ روم منتقل ہونے کی ہدایت دی گئی۔فائرنگ کے وقت اے بی سی نیوز سمیت متعدد ٹی وی چینلز کے رپورٹرز لائیو نشریات کر رہے تھے اور گولیوں کی آوازیں براہِ راست نشریات میں بھی سنی گئیں ۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب تقریباً چار ہفتے قبل بھی ایک مسلح شخص نے واشنگٹن میں ہونے والی ایک تقریب کے دوران مبینہ طور پر صدر ٹرمپ کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تھی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ایران، امریکا کے مابین معاہدے کا ڈرافٹ فائنل ،کونسی اہم شقیں شامل ہیں؟
رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کو آج اپنے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لیے بہاماس روانہ ہونا تھا، تاہم امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے باعث انہوں نے وائٹ ہاؤس میں ہی قیام کو ترجیح دی ۔




