ماہرین صحت نے بچا ہوا کھانا محفوظ کرنے اور اسے دوبارہ استعمال کیلئے فریز کرنے کے طریقوں سے متعلق اہم احتیاطی ہدایات جاری کی ہیں ۔
ہیلتھ رپورٹ کے مطابق ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پلاسٹک کے ڈبے روزمرہ زندگی میں عام طور پر استعمال ہوتے ہیں، تاہم ان میں کھانے کو فریز کرنا بعض حالات میں صحت کیلئے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے ۔
ماہرین کے مطابق جب کھانا شدید ٹھنڈا کیا جاتا ہے اور بعد میں اسے دوبارہ گرم کیا جاتا ہے تو بعض اقسام کے پلاسٹک اپنی ساخت کھو سکتے ہیں ۔
اس عمل کے نتیجے میں انتہائی باریک ذرات، جنہیں مائیکروپلاسٹکس کہا جاتا ہے، کھانے میں شامل ہونے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہ ذرات نظر نہیں آتے لیکن خوراک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو سکتے ہیں ۔
صارفین کے حقوق کے ایک ادارے نے اس حوالے سے مشورہ دیا ہے کہ فریزر میں خوراک محفوظ کرنے کے لیے شیشے یا اسٹیل کے برتن زیادہ محفوظ اور دیرپا انتخاب ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کانگو: مہلک ایبولا وائرس کی نئی خطرناک لہر، 65 افراد ہلاک
ان کے مطابق یہ مواد نہ صرف کیمیائی طور پر مستحکم ہوتے ہیں بلکہ بار بار ٹھنڈا یا گرم کرنے کے عمل سے متاثر بھی نہیں ہوتے ۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مائیکروپلاسٹکس ماحول میں پہلے ہی ایک بڑا مسئلہ بن چکے ہیں، جبکہ انسانی صحت پر ان کے اثرات کے بارے میں سائنسی تحقیق ابھی جاری ہے۔
بعض مطالعات میں یہ بھی پایا گیا ہے کہ یہ باریک ذرات انسانی خون، پھیپھڑوں، نال اور حتیٰ کہ ماں کے دودھ میں بھی موجود ہو سکتے ہیں ۔
مزید یہ کہ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ نینو پلاسٹکس جسم کے حساس حصوں تک بھی پہنچ سکتے ہیں، جس سے مستقبل میں اعصابی نظام سے متعلق بیماریوں کے خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال کاہیپاٹائٹس سی کی مفت علاج کا اعلان
تاہم اس حوالے سے حتمی سائنسی نتائج ابھی سامنے نہیں آئے ۔ ماہرین نے مجموعی طور پر احتیاط کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کھانے کی محفوظ اسٹوریج کیلئے بہتر مواد کا انتخاب صحت کے ممکنہ خطرات کو کم کر سکتا ہے ۔



