جمہوری جمہوریہ کانگو میں مہلک ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے خطرناک صورتحال اختیار کر لی ہے، جہاں اب تک 65 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں مشتبہ کیسز سامنے آگئے۔
صحت حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ وائرس خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل سکتا ہے، جس کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور نگرانی مزید سخت کر دی گئی ہے۔
صحت حکام نے شہر بونیا میں بھی مشتبہ کیسز کی تحقیقات شروع کر دی ہیں، تاہم ان کی حتمی تصدیق ابھی نہیں ہو سکی۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ سرحدی علاقوں میں آبادی کی نقل و حرکت کے باعث وائرس کے پھیلاؤ کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صحافت کا سنہری باب بند، بانی اردو ڈائجسٹ الطاف حسن قریشی انتقال کرگئے
افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق کانگو کے صوبے ایتوری میں ایبولا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہو گئی ہے، جہاں اب تک 20 میں سے 13 نمونوں میں وائرس مثبت پایا گیا ۔
قومی انسٹی ٹیوٹ فار بایومیڈیکل ریسرچ کے ابتدائی نتائج کے مطابق یہ کیسز تصدیق شدہ ہیں۔حکام کے مطابق اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں۔
جن میں 65 اموات شامل ہیں۔ زیادہ تر کیسز مونگوالو اور رمپارا کے ہیلتھ زونز میں سامنے آئے ہیں، جبکہ چار اموات ایسے مریضوں کی ہیں جن میں لیبارٹری کے ذریعے ایبولا کی تصدیق ہو چکی تھی۔
مزید یہ بھی پڑھیں:مذاکرات کا دوسرا دور، وزیر داخلہ محسن نقوی اہم پیغام لے کر ایران پہنچ گئے
افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن خطے میں کانگو، یوگنڈا اور جنوبی سوڈان کی حکومتوں کے ساتھ مل کر نگرانی اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو مضبوط بنانے پر کام کر رہا ہے۔
افریقی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے ڈائریکٹر جنرل ژاں کیسیہ نے کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں اور ہمسایہ ممالک کے درمیان فوری اور مربوط اقدامات انتہائی ضروری ہیں تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔
ایبولا ایک انتہائی خطرناک اور متعدی بیماری ہے جو متاثرہ افراد کے جسمانی رطوبتوں یا متاثرہ ٹشوز کے براہ راست رابطے سے پھیلتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیماری میں شرح اموات 90 فیصد تک بھی پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی علامات میں تیز بخار، کمزوری، سر درد، گلے کی سوزش، قے، اسہال اور بعض صورتوں میں اندرونی یا بیرونی خون بہنا شامل ہے۔



