مظفرآباد : آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے جاری سیاسی تجزیوں میں کہا جا رہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کی جانب سے بعض حلقوں میں کیے گئے ٹکٹ فیصلے پاکستان پیپلز پارٹی کیلئے انتخابی طور پر فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں ۔
مختلف حلقوں میں اُمیدواروں کے انتخاب پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور بعض مبصرین کے مطابق اس سے سیاسی توازن پیپلز پارٹی کے حق میں جا سکتا ہے ۔
اطلاعات کے مطابق مظفرآباد کے حلقہ کھاوڑہ میں (ن) لیگ کی جانب سے سابق وزیر اور سینئر رہنما راجہ عبدالقیوم خان کو نظر انداز کرتے ہوئے راجہ ثاقب مجید کو اُمیدوار نامزد کیے جانے کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات کی خبریں سامنے آئی ہیں ۔
اس صورت حال کو بعض حلقوں میں پیپلز پارٹی کے لیے فائدہ مند قرار دیا جا رہا ہے ، جہاں موجودہ قائم مقام صدر چودھری لطیف اکبر کو ایک بار پھر اہم سیاسی کردار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے ۔
وسطی باغ کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے راجہ مشتاق منہاس کو دوبارہ ٹکٹ دئیے جانے کے فیصلے پر بھی مختلف آرا سامنے آئی ہیں جبکہ سیاسی حلقوں کے مطابق اس سے پیپلز پارٹی کے اُمیدوار سردار ضیاء القمر کو برتری مل سکتی ہے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدر خواتین ونگ پاکستان پیپلز پارٹی آزاد کشمیر فوزیہ حبیب کا بالائی نیلم وادی کا دورہ
عباسپور کے حلقے میں مسلم لیگ (ن) کی جانب سے سردار اسامہ زاہد کو ٹکٹ دینے کے فیصلے کو بھی بعض تجزیہ کار انتخابی لحاظ سے اہم قرار دے رہے ہیں ۔
پاچھیوٹ کے حلقے میں سردار جاوید شریف کی جگہ سردار عبد الخالق وصی کو ٹکٹ دئیے جانے پر بھی سیاسی بحث جاری ہے ۔ چکسواری کے حلقے میں راجہ نزیر انقلابی کو اُمیدوار نامزد کیے جانے کے بعد انتخابی صورتحال مزید دلچسپ قرار دی جا رہی ہے ۔
راج محل اور کوٹلی کے دیگر حلقوں میں بھی مسلم لیگ (ن) کے اُمیدواروں کے انتخاب کو لے کر مختلف سیاسی آرا سامنے آ رہی ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے اُمیدواروں کی فہرست کو مضبوط قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر پیپلز پارٹی کی جانب سے مختلف حلقوں میں اپنے اُمیدواروں کے نام سامنے لائے گئے ہیں جن میں پونچھ، باغ، ڈڈیال، سماہنی، چڑھوئی، بھمبر، میرپور اور دیگر علاقے شامل ہیں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:پاکستان مسلم لیگ (ن) ایک ویژن ،نظریے کا نام ہے: جمیلہ خاتون
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال اور ٹکٹوں کی تقسیم کے حوالے سے پیدا ہونے والی سیاسی کیفیت برقرار رہی تو آئندہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کو برتری حاصل ہو سکتی ہے، تاہم حتمی فیصلہ عوامی ووٹ سے ہی ہوگا ۔




