انمول عرف پنکی کا نیٹ ورک بیرون ممالک تک پھیلا ہونے کا انکشاف

کراچی میں گرفتار منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے حوالے سے ایڈیشنل آئی جی کراچی آزاد خان نے دعویٰ کیا ہے کہ ملزمہ کے نیٹ ورک کے تانے بانے ملک بھر اور بیرون ملک تک پھیلے ہوئے ہیں۔

ملزمہ کے نیٹ ورک میں تقریباً 20 خواتین بھی شامل ہیں جبکہ مجموعی طور پر 300 افراد منشیات کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں، کچھ غیر ملکی خصوصاً افریقی سہولت کار بھی لاہور میں موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منشیات فروش پنکی  کو گرفتاری کا پہلے سے ہی خدشہ تھا، نئی آڈیو ریکارڈنگ سامنے آ گئی

کراچی پولیس کی جانب سے گرفتار مبینہ منشیات فروش انمول عرف پنکی سے تحقیقات کا دائرہ وسیع کردیا گیا ہے، جس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس کا نیٹ ورک نہ صرف پاکستان بلکہ بیرون ملک تک سرگرم ہے۔

جمعے کو ایڈیشنل انسپکٹر جنرل (اے آئی جی) کراچی آزاد خان نے سینٹرل پولیس آفس میں دیگر سینئرافسران کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انمول عرف پنکی کی گرفتاری سے متعلق تفصیلات جاری کیں اور بتایا کہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری 12 مئی کو کراچی سے ہوئی، وفاقی حساس ادارے اور پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر آپریشن کیا۔

آپریشن کے دوران گارڈن تھانے کی حدود سے پنکی کو گرفتار کرکے اس سے ڈیڑھ کلو کوکین، نائن ایم ایم پستول اور کوکین بنانے میں استعمال ہونے والا کیمیکل برآمد کیا گیا۔

آزاد خان کے مطابق انمول عرف پنکی 2014 سے منشیات کے دھندے سے وابستہ رہی ہے جب کہ 2018 سے اس نے کراچی میں آن لائن نیٹ ورک کے ذریعے سرگرمیاں شروع کیں۔

تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا کہ انمول عرف پنکی پر صرف سندھ میں 20 مقدمات درج ہیں، جن میں سے 17 پرانے ہیں اور لاہور میں 3 مقدمات درج ہیں، پنکی کے خلاف بعض پرانے مقدمات بھی زیر تفتیش ہیں جب کہ ایک قتل کا مقدمہ بھی درج ہے، ان کے مطابق اے این ایف کیس میں ملزمہ مفرور تھی۔

یہ بھی پڑھیں:جہلم ویلی پولیس کا کریک ڈاؤن، مشہور منشیات فروش رنگے ہاتھوں گرفتار

انہوں نے مزید بتایا کہ انمول عرف پنکی کے موبائل فون سے 869 نمبرز ملے ہیں، جن میں منشیات نیٹ ورک سے جڑے افراد شامل ہیں۔

پولیس حکام کے مطابق ملزمہ کے ایک اکاؤنٹ میں تقریباً 3 کروڑ روپے کی ٹرانزیکشنز بھی سامنے آئی ہیں جب کہ ملزمہ کے 9 رائیڈرز میں سے 8 کا تعلق پنجاب جب کہ ایک کا کراچی سے ہے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی کے مطابق کیس میں ملوث 4 اہم ناموں کو ای سی ایل میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے جب کہ پنجاب پولیس، اینٹی نارکوٹکس فورس اور دیگر اداروں کے ساتھ مشترکہ کارروائیاں جاری ہیں۔

پریس کانفرنس میں ایڈیشنل آئی جی نے مزید بتایا کہ اس کیس کی تفتیش کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے، جس کی سربراہی وہ خود کریں گے جب کہ ڈی آئی جی سی ٹی ڈی، ڈی آئی جی کرائم، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ اور دیگر افسران شامل ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیر حکومت چوہدری اخلاق کا بیٹا برطانیہ میں منشیات سپلائی کرتے پکڑا گیا،30ماہ قیدو جرمانہ

پولیس کے مطابق ملزمہ کے نیٹ ورک میں تقریباً 20 خواتین بھی شامل ہیں جب کہ مجموعی طور پر 300 افراد منشیات کے نیٹ ورک سے جڑے ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق کچھ غیر ملکی خصوصاً افریقی سہولت کار بھی لاہور میں موجود ہیں۔

آزاد خان نے بتایا کہ پولیس کے مطابق ملزمہ کے پرانے گھر سے بھی کوکین برآمد ہوئی ہے جب کہ مجموعی طور پر 500 صفحات پر مشتمل اسٹیٹمنٹ تیار کی گئی ہے۔