وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کی خواتین کو معاشی طور پر خودمختار بنانے کے لیے ایک انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے “ای لرن، شی ارن” پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت خواتین کو جدید ڈیجیٹل مہارتیں سکھا کر انہیں عالمی مارکیٹ سے منسلک کیا جائے گا۔
حکومت پنجاب کی جانب سے شروع کیے گئے اس پروگرام کا بنیادی مقصد خواتین کو جدید ترین ڈیجیٹل ہنر سکھانا ہے تاکہ وہ گھر بیٹھے باعزت طریقے سے روزگار حاصل کر سکیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے اس منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے کے خطیر فنڈز مختص کیے ہیں۔ یہ پروگرام پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ (PSDF) اور ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مشترکہ تعاون سے عمل میں لایا جا رہا ہے تاکہ خواتین کو فری لانسنگ کی عالمی منڈی تک رسائی دی جا سکے۔
اس پروگرام کے ذریعے خواتین نہ صرف اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکیں گی بلکہ ملکی معیشت میں بھی اپنا فعال کردار ادا کریں گی۔ حکومت کا ماننا ہے کہ خواتین کو ڈیجیٹل معیشت کا حصہ بنا کر ہی حقیقی ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے، خاص طور پر ایسی خواتین جو گھر سے باہر نکل کر کام کرنے سے قاصر ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل انقلاب:پاکستان نے جرمنی، فرانس اور اسپین کو پیچھے چھوڑ دیا، عالمی انڈیکس میں 16واں نمبر
تربیتی کورسز اور مراعات کی تفصیلات:
“ای لرن، شی ارن” پروگرام کے تحت منتخب ہونے والی خواتین کو تین ماہ کی مکمل مفت آن لائن تربیت فراہم کی جائے گی۔ ان تربیتی کورسز میں دورِ حاضر کی مانگ کے مطابق ڈیجیٹل مارکیٹنگ، ای کامرس، گرافک ڈیزائن، ورچوئل اسسٹنس اور ڈیجیٹل کسٹمر کیئر جیسے اہم شعبے شامل کیے گئے ہیں۔ ان شعبوں میں مہارت حاصل کر کے خواتین بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر اپنی خدمات فروخت کر سکیں گی۔
صرف تربیت ہی نہیں بلکہ حکومت پنجاب نے شرکاء کے لیے غیر معمولی مراعات کا بھی اعلان کیا ہے۔ منتخب امیدواروں کو کام کی سہولت کے لیے مفت لیپ ٹاپ فراہم کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ دورانِ تربیت خواتین کو ماہانہ وظیفہ اور انٹرنیٹ کی مفت سہولت بھی دی جائے گی تاکہ مالی مشکلات ان کے سیکھنے کے عمل میں رکاوٹ نہ بنیں۔ کورس کی کامیاب تکمیل پر انہیں پیشہ ورانہ سرٹیفکیٹ بھی جاری کیے جائیں گے۔
اہلیت کا معیار اور طریقہ کار:
حکام کے مطابق اس پروگرام میں شمولیت کے لیے عمر کی حد 15 سے 35 سال مقرر کی گئی ہے، تاہم بعض خصوصی اور ایڈوانس کورسز کے لیے 40 سال تک کی خواتین بھی اپلائی کر سکیں گی۔ درخواست دہندگان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پنجاب کی مستقل رہائشی ہوں اور ان کے پاس قومی شناختی کارڈ یا ب فارم موجود ہو۔ یہ شرائط اس لیے رکھی گئی ہیں تاکہ صرف پنجاب کی مستحق اور باصلاحیت خواتین ہی اس سے مستفید ہوں۔
مزید پڑھیں: ڈومیسائل سسٹم ڈیجیٹل کرنیکا فیصلہ، فیس میں بڑا اضافہ کردیا گیا
پروگرام میں رجسٹریشن کا عمل انتہائی سادہ اور شفاف رکھا گیا ہے۔ خواہش مند خواتین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ (PITB) اور پنجاب اسکلز ڈویلپمنٹ فنڈ کے آفیشل پورٹلز پر جا کر آن لائن درخواست جمع کروا سکتی ہیں۔ تمام امیدواروں کا انتخاب میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے گا اور ابتدائی جانچ پڑتال کے بعد کامیاب خواتین کو کورسز میں شامل کیا جائے گا۔ یہ اقدام طالبات اور گھریلو خواتین کے لیے ایک روشن مستقبل کی نوید ہے۔




