آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے حکومت پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان تکنیکی مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے، جس میں وزارت خزانہ نے عالمی ادارے کے ساتھ اہم ڈیٹا شیئرنگ شروع کر دی ہے۔ اس اہم مرحلے پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ٹیکس سفارشات کو حتمی شکل دے گی۔
آئی ایم ایف وفد نے مذاکرات کے دوران 683 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لیے سخت مالی ڈسپلن کو یقینی بنائے۔ عالمی ادارے نے مطالبہ کیا ہے کہ تیل کی عالمی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کا بوجھ براہ راست صارفین پر منتقل کیا جائے تاکہ پیٹرولیم لیوی کے اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق رواں مالی سال کے دوران پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1330 ارب روپے وصول کیے گئے ہیں، جبکہ اصل ہدف 1468 ارب روپے مقرر تھا۔ آئی ایم ایف نے واضح کیا ہے کہ معاشی اہداف کے حصول کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کسی بھی رعایت کی گنجائش نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم لیوی : حکومت نے 9 ماہ میں صارفین سے 12 کھرب روپے سے زائد وصول کیے
نئے مالی سال کے بجٹ میں 400 ارب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس اقدامات تجویز کیے جا رہے ہیں۔ آئی ایم ایف نے خاص طور پر زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی کا عمل تیز کرنے پر زور دیا ہے، جس کے تحت اب چاروں صوبے زرعی شعبے سے مکمل ٹیکس وصولی کے پابند ہوں گے۔ مذاکرات میں بتایا گیا کہ رواں سال معاشی شرح نمو کا 4.2 فیصد کا ہدف پورا ہونا مشکل ہے اور نظرثانی شدہ ٹیکس ہدف کا حصول بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی سربراہی میں قائم کمیٹی تمام ٹیکس تجاویز کا جائزہ لے کر انہیں حتمی شکل دے گی۔ حکومت کی جانب سے ٹیکس ریونیو سمیت سالانہ معاشی اہداف پر دوبارہ نظرثانی کی تجویز بھی دی گئی ہے تاکہ زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کیے جا سکیں۔
آئی ایم ایف نے نئے بجٹ میں صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور سماجی تحفظ (سوشل سیفٹی نیٹ) کے لیے زیادہ رقم مختص کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عالمی ادارے کا اصرار ہے کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں پر جی ڈی پی کا کم از کم 3 فیصد خرچ کرے۔ یہ مطالبہ انسانی ترقی کے اشاریوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی ممکن ہو سکے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف سے پاکستان کو 1.3 ارب ڈالر موصول، زرمبادلہ کے ذخائر میں بڑا اضافہ
علاوہ ازیں، “نیشنل فسکل پیکٹ” پر عمل درآمد میں مزید تاخیر نہ کرنے پر بھی سخت زور دیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف حکام نے واضح کر دیا ہے کہ اس پیکٹ پر عمل درآمد کے حوالے سے کوئی رعایت یا نرمی نہیں برتی جائے گی اور وفاق و صوبوں کو طے شدہ اصولوں کے مطابق مالیاتی امور چلانے ہوں گے۔



